سے بھی یہی سلوک کرتا ہے اور اس کے یہ اعضائے بدن گدی کی طرف مڑجاتے ہیں پھر وہ دوسری سمت سے آتا ہے اور اس کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہے جو پہلے کرچکا ہے۔جب وہ دوسری جانب جاتا ہے تو پہلی جانب چہرہ صحیح ہوجاتا ہے،پھر وہ واپس آتا ہے اور پہلی طرف سے اس کے چہرے کو وہی اذیت دیتا ہے، میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ابھی اورچلئے اور چلئے! ہم چل پڑے اور تنور جیسی ایک چیز دیکھی، راوی کہتا ہے کہ مجھے ایسے یاد پڑتا ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے یہ فرمایا: اس میں سے ملی جلی آوازیں اور شور اُٹھ رہا تھا، حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰیعَلَیْہِوَسَلَّم نے فرمایا: ہم نے دیکھا اس میں ننگے مرد اور عورتیں تھیں ، اچانک ان کے نیچے سے آگ کا شعلہ نکلتا، جونہی یہ شعلہ نکلتا وہ شدید گھبراہٹ کے عالم میں آہ و فغاں شروع کردیتے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں ؟ اُنہوں نے مجھ سے کہا: ابھی اور چلئے اور چلئے!
ہم پھرروانہ ہوگئے اور تب ایک ایسی نہر پر پہنچے جو میں سمجھتاہوں کہ خون کی طرح سُرخ تھی، اس میں ایک آدمی تیر رہا ہے اور نہر کے کنارے پر ایک آدمی بہت سے پتھر لئے کھڑا ہے، وہ اسے پتھر مارتا ہے اور وہ تیرنے لگتا ہے۔ جب بھی وہ اس کے قریب آتا ہے وہ اسے پتھر مارتا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اُنہوں نے کہا: ابھی اور چلئے اور چلئے ہم پھر چل دیئے اور ایک ایسے بدصورت آدمی کے پاس آئے کہ تم نے اس جیسا بدصورت نہیں دیکھا ہوگا، وہ آگ بھڑکاتا ہے اور پھر اس کے اردگرد بھاگنے لگتا ہے، میں نے ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اُنہوں نے کہا: چلئے اور چلئے! ہم پھر چل پڑے اور ایسے باغ کے قریب پہنچے جس میں طویل و عریض سبزہ اور ہر قسم کے پودے، پھول وغیرہ لگے تھے اور باغ کے پیچھے ایک طویل القامت آدمی ہے جس کا سر آسمان سے چھو رہا ہے اور اس کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے بچے جمع ہیں ۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اور یہ سب کون ہیں ؟ ان دو فرشتوں نے مجھے کہا: ابھی اور چلئے اور چلئے!
پھر ہم نے ایک عظیم درخت دیکھا، میں نے آج تک اس جیسا طویل اور حسین درخت نہیں دیکھا ہے، اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ اس پر چڑھئے چنانچہ اس پر چڑ ھ کر ایک ایسے شہر میں پہنچے جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا، ہم نے دروازہ کھولنے کو کہا تو ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا ، وہاں ہمیں کچھ انتہائی حسین و جمیل اور کچھ انتہائی بدصورت آدمی ملے، ان دو فرشتوں نے ان آدمیوں سے کہا کہ تم جاؤ اور اس نہر میں گھس جاؤ ۔