Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
361 - 676
بے شک اس کا عمل تباہ ہوگیا۔(1)
	ابن ابی شیبہ کی مرسل روایت ہے کہ جس نے نمازِ عصر چھوڑدی، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور اس کے لئے کوئی عذر بھی نہیں تھا توگویا اس کا عمل برباد ہوگیا۔(2)
	عبدالرزاق کی روایت ہے کہ تم میں سے کسی ایک کا اہل اور مال و متاع سے تنہا رہ جانا نمازِ عصر کے قضاء ہوجانے سے بہتر ہے۔(3)
	طبرانی اور احمد کی روایت ہے کہ جس نے جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑ دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو گویا اس کے اہل و عیال اور مال برباد ہوگیا۔(4)
شافعی اور بیہقی کی روایت ہے کہ جس کی ایک نماز فوت ہوگئی گویا اس کا گھرانا اور مال ہلاک ہوگیا۔(5)
	بخاری میں حضرتِ سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اکثر اپنے صحابہ کرام سے فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے تو بیان کرے۔ لوگ اپنے خواب آپ کو سنایا کرتے۔
	 ایک صبح حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ہمیں بتلایا کہ میرے پاس دو آنے والے آئے اورانہوں نے مجھے جگا کر کہا کہ ہمارے ساتھ چلئے! میں ان کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ ہم نے ایسے آدمی کو دیکھا جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا ایک بھاری پتھر لئے کھڑا تھا۔ جب وہ بھاری پتھر اس کے سرپرمارتا تو اس سونے والے کا سر ریزہ ریزہ ہوجاتا، پھر وہ پتھر اٹھا لیتا ہے اور اس آدمی کا سرصحیح ہوجاتا ہے جیسا کہ پہلے تھا، وہ پھر پتھر مارتا ہے اور اس کا پہلے جیسا حشر ہوجاتا ہے، میں نے ان دونوں سے کہا: سبحان اللہ یہ کیا ہے؟انہوں نے مجھے کہا: ابھی اور چلئے! اور چلئے! 
	پھر ہم ایک ایسے آدمی کے پاس آئے جو پیٹھ کے بَل لیٹا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ میں لوہے کی سنسی لئے کھڑا تھا اور سونے والے کے چہرے کی ایک جانب سنسی سے اس کی باچھ کو گدی کی طرف کھینچتا ہے اور اس کے نتھنوں اور آنکھوں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند احمد، من مسند القبائل ، ومن حدیث ابی الدرداء عویمر، ۱۰/۴۱۸،الحدیث ۲۷۵۶۲
2…مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الایمان والرؤیا، باب ۶،۷/۲۲۳، الحدیث۴۹
3…مصنف عبدالرزاق، کتاب الصلاۃ، باب تفریط مواقیت الصلاۃ، ۱/۴۲۸، الحدیث ۲۲۲۴
4…مسند احمد، مسند عبداللہ  بن عمر بن الخطاب،۲/۲۵۷، الحدیث ۴۸۰۵
5…شعب الایمان، باب الحادی والعشرین۔۔۔الخ، ما فضل الصلوات الخمس۔۔۔الخ، ۳/۵۳، الحدیث ۲۸۴۴