Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
36 - 676
 تو یہ تفکر اس کے دل کے لئے غسل کا کام دیتا ہے جیسا کہ فرمانِ نبوی ہے: ایک گھڑی کا تفکر سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے۔(1)
	لہٰذا ہر عقلمند کے لئے ضروری ہے کہ اپنے گذشتہ گناہوں کی مغفرت طلب کرے، جن چیزوں کا اقرار کرتا ہے ان میں تفکر کرے اور قیامت کے دن کے لئے توشہ بنائے، امیدوں کو کم کرے، توبہ میں جلدی کرے، اللہ تَعَالٰی کا ذکر کرتا رہے، حرام چیزوں سے اعراض کرے اور نفس کو صبر پر آمادہ کرے، خواہشاتِ نفسانی کی اِتباع نہ کرے کیونکہ نفس ایک بت کی طرح ہے جو نفس کی اِتباع کرتا ہے وہ گویا بت کی عبادت کرتا ہے اور جو اخلاص سے ا  للّٰہ کی عبادت کرتا ہے، وہ اپنے نفس پر جبر کرتا ہے۔
حضرتِ مَالک بن دِینار نے اِنجیر کھانا چاہا:
	حضرت مَالک بن دِینار رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ ایک دن بصرہ کے ایک بازار سے گزر رہے تھے کہ آپ کو اِنجیر نظر آئے، دل میں انہیں کھانے کی خواہش ہوئی، دوکاندار کے پاس پہنچے اور کہا: میرے ان جو توں کے عوض اِنجیر دے دو، دوکاندار نے جوتوں کو پرانا دیکھ کر کہا: ان کے بدلہ میں کچھ نہیں مل سکتا، آپ یہ جواب سن کر چل پڑے، کسی نے دوکاندار سے کہا: جانتے ہو یہ بزرگ کون تھے؟ وہ بولا: نہیں ! اس نے کہا: یہ مشہور بزرگ حضرت مَالک بن دِینار رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ  تھے۔ دوکاندار نے جب یہ سناتو اپنے غلام کو ایک ٹوکری اِنجیروں سے بھر کردی اور کہا: اگر حضرت مَالک بن دِینار رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ  تجھ سے یہ ٹوکری قبول کرلیں تو اس خدمت کے بدلہ تو آزاد ہے۔ غلام بھاگا بھاگا آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کی: حضور! یہ قبول فرمائیے! آپ نے کہا :میں نہیں لیتا، غلام بولا: اگر آپ اسے قبول کرلیں تو میں آزاد ہوجاؤں گا، آپ نے جواب دیا: اس میں تیرے لئے تو آزادی ہے مگر میرے لئے ہلاکت ہے، جب غلام نے اصرار کیا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ دین کے عوض میں اِنجیر نہیں کھاؤں گا اور مرتے دم تک کبھی بھی اِنجیر نہیں لونگا۔
زندگی کی آخری گھڑی میں صبر:
	حضرت مَالک بن دِینار رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ  کو مرضِ وفات میں اس بات کی خواہش ہوئی کہ میں گرم روٹی کا ثرید بنا کر کھاؤں جس میں شہد اور دودھ شامل ہو، چنانچہ آپ کے حکم سے خادم یہ تمام چیزیں لے کر حاضر ہوا۔ آپ کچھ دیر ان چیزوں کو دیکھتے رہے، پھر بولے: اے نفس! تو نے تیس سال متواتر صبر کیا ہے، اب زندگی کی اس آخری گھڑی میں کیا صبر نہیں کرسکتا؟ یہ کہا اور پیالہ چھوڑ دیا اور اسی طرح صبر کرتے ہوئے واصل بحق ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نیک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الجاثیہ، تحت الآیۃ:۱۳، ۸/۴۴۰و الجامع الصغیر، ص۳۶۵ ، الحدیث ۵۸۹۷ بلفظ ستین سنۃ