Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
359 - 676
 ہوگی اور جس شخص نے نمازوں کو ادا نہ کیا قیامت کے دن اس کے لئے نماز نور، حجت اور نجات نہ ہوگی اوروہ قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔(1)
	بعض علماء کا کہنا ہے: ان لوگوں کے ساتھ تارکِ نماز اس لئے اٹھایا جائیگا کہ اگر اس نے اپنے مال و اَسباب میں مشغولیت کی وجہ سے نماز نہیں پڑھی تووہ قارُون کی طرح ہوگیا اور اسی کے ساتھ اُٹھایا جائے گا، اگر ملک کی مشغولیت میں نماز نہیں پڑھی تو فرعون کی طرح ہے اور اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا، اگر وزارت کی مشغولیت نماز سے مانع ہوئی تو وہ ہامان کی طرح ہے اور اسی کے ساتھ اٹھے گا، اگر تجارت کی وجہ سے نماز نہیں پڑھی تو وہ ابی بن خلف تاجر مکہ کی طرح ہے اور اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
	بزاز نے حضرتِ سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت کی ہے کہ میں نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے اس آیت کے معنی پوچھے ’’جو لوگ اپنی نمازوں سے بے خبر ہیں ‘‘ تو آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کردیتے ہیں ۔ (2)
	ابویعلی نے سند حسن کے ساتھ مصعب بن سعد رَضِیَ اللہ عَنْہ  کا قول اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔ مصعب رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے اپنے والد سے عرض کی اباجان! آپ نے اللہ تَعَالٰی کے اس فرمان پر غور کیا ہے:  ’’جو لوگ اپنی نمازوں سے بے خبر ہیں ‘‘ ہم میں سے کون ہے جو نہیں بھولتا اور اس کے خیالات منتشر نہیں ہوتے؟ انہوں نے جواب دیا اس کا مطلب یہ نہیں بلکہ اس کا مطلب نمازوں کا وقت ضائع کردینا ہے۔(3)
	ویل کے معنی سخت عذاب ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، اگر اس میں دنیا کے پہاڑ ڈالے جائیں تو وہ بھی اس کی شدید گرمی کی وجہ سے پگھل جائیں اور یہ وادی ان لوگوں کا مسکن ہے جو نمازوں میں سستی کرتے ہیں اور ان کو ان کے اوقات سے مؤخر کر کے پڑھتے ہیں ، ہاں اگر وہ اللہ تَعَالٰی کی طرف رجوع اورتوبہ کرلیں اور گزشتہ اعمال پر پشیمان ہوجائیں تو اور بات ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند احمد، مسند عبداللہ  بن عمرو بن العا ص، ۲/۵۷۴، الحدیث ۶۵۸۷
2…مسند البزار ، ۳/۳۴۴ ، الحدیث۱۱۴۵
3…مسند ابی یعلی، مسند سعد بن ابی وقاص، ۱/۳۰۰ ، الحدیث ۷۰۰