Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
358 - 676
 عصر کے وقت اور عصر کی مغرب کے وقت اور مغرب کی عشاء کے وقت اور عشاء کی فجر کے وقت اور فجر کی سورج کے طلوع ہونے کے وقت کے قریب پڑھی جائے، جو شخص اس طریقہ سے نمازیں پڑھتا ہوا مرجائے اور اس نے توبہ نہ کی تو اللہ تَعَالٰی نے اس کے لئے ’’  غَی‘‘  کا وعدہ فرمایا ہے جو جہنم کی ایک گہری اور عذاب سے بھرپور وادی ہے۔
	فرمانِ الٰہی ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُلْہِکُمْ اَمْوٰلُکُمْ وَ لَاۤ اَوْلٰدُکُمْ عَنۡ ذِکْرِ اللہِۚ وَ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوۡنَ﴿۹﴾(1)
اے ایمان والو تمہیں تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جس نے ایسا کیا پس وہ لوگ خسارہ پانے والے ہیں ۔ 
	مفسرین کی ایک جماعت کا قول ہے: یہاں ذکر سے مراد نمازیں ہیں لہٰذا جو شخص نماز کے وقت اپنے مال کی وجہ سے جیسے اس کی خرید و فروخت وغیرہ میں مشغول ہوکر نماز سے غافل ہوگیا یا اپنی اولاد میں مشغول ہوکر نماز بھول گیا وہ نقصان پانے والوں میں سے ہے۔ اسی لئے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن انسان کے سب اعمال سے پہلے نماز کا محاسبہ ہوگا، اگر اس کی نمازیں مکمل ہوئیں تو وہ فلاح و کامرانی پاگیا اور اگر اس کی نمازیں کم ہوگئیں تو وہ خائب و خاسر ہے۔(2)
	اور فرمانِ الٰہی ہے:
فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾ اَلَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ (3)	پس ویل ہے ان نمازیوں کیلئے جو اپنی نمازوں سے بے خبر ہیں ۔ 
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کر کے پڑھتے ہیں۔ (4)
	مسند احمد کی بسندصحیح، طبرانی اور صحیح ابن حبان کی روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ایک دن نماز کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا:جس نے ان نمازوں کو پابندی سے ادا کیا، وہ نماز اس شخص کے لئے قیامت کے دن نور، حجت اور نجات
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو! تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں۔ (پ۲۸، المنٰفقون : ۹)
2…المعجم الاوسط ، ۳/۳۲، الحدیث ۳۷۸۲
3…ترجمۂکنزالایمان:تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں۔(پ۳۰، الماعون:۴،۵)
4…مسند ابی یعلی، مسند سعد بن ابی وقاص، ۱/۳۴۱ ، الحدیث ۸۱۸