جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں ۔ (1)
ابن ابی شیبہ کی روایت ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔(2)
محمد بن نصر رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ میں نے اسحق سے سنا، وہ کہتے تھے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے یہ حدیث صحیح ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: تارکِ نماز کافر ہے۔(3)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے زمانۂ مقدسہ سے لے کر آج تک تمام علماء کی رائے ہے کہ تارکِ نماز جو بغیر کسی عذر کے نماز نہیں پڑھتا حتّٰی کہ نماز کا وقت نکل جاتا ہے تو وہ کافر ہے۔(4)
حضرتِ ایوب رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ ترکِ نماز ’’کفر‘‘ ہے جس میں کسی کو اِختلاف نہیں ہے۔
فرمانِ الٰہی ہے:
فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾اِلَّا مَنۡ تَابَ (5)
پس ان کے بعد برے لوگ جانشین ہوئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کی پس عنقریب وہ غی میں جائیں گے مگر جس نے توبہ کی (وہ محفوظ رہے گا)۔
حضرتِ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ ضائع کرنے کا یہ معنی نہیں ہے کہ بالکل نماز پڑھتے ہی نہیں بلکہ یہ کہ اسے مؤخر کر کے پڑھتے ہیں ۔
ضیاعِ صلوٰۃ کا کیا معنٰی ہے؟
امام التابعین حضرتِ سعید بن مسیب رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ضیاع سے یہ مراد ہے کہ ظہر کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الترغیب والترھیب،کتاب الصلاۃ، الترھیب من ترک الصلاۃ۔۔۔الخ،۱/۲۶۱،الحدیث۸۳۴
2…مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتاب الایمان والرء ویا ، باب ۶ ، ۷/۲۲۲، الحدیث ۴۵
3…تعظیم قدر الصلاۃ لمحمد بن نصرالمروزی، باب ذکر النھی عن قتل المسلمین۔۔۔الخ ،۲/۹۲۹، الحدیث ۹۹۰ و الترغیب والترھیب ،کتاب الصلاۃ، الترھیب من ترک الصلاۃ۔۔۔الخ ، ۱/۲۶۱، الحدیث ۸۳۴
4…المرجع السابق
5…ترجمۂکنزالایمان:توان کے بعد ان کی جگہ وہ نا خلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں (ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے مگر جو تائب ہوئے ۔(پ۱۶، مریم : ۵۹،۶۰)