سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تَعَالٰی اس پر ناراض ہوگا۔(1)
طبرانی کی ایک روایت ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کی کہ مجھے ایسا عمل بتائیے جسے کر کے میں جنت میں جاؤں ۔ آپ نے فرمایا: اللہ تَعَالٰی کے ساتھ شرک نہ کر اگرچہ تجھے عذاب دیا جائے اور زندہ جلادیا جائے، والدین کا فرماں بردار بن، اگرچہ وہ تجھے تیرے تمام مال و اسباب سے بے دخل کردیں اور جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑ کیونکہ جس نے دیدہ دانستہ نماز چھوڑ دی وہ اللہ تَعَالٰی کے ذمہ سے نکل گیا۔ (2)
ایک اور روایت میں ہے: اللہ تَعَالٰی کے ساتھ شرک نہ کر اگرچہ تجھے قتل کر دیا جائے اور جلادیا جائے، والدین کی نافرمانی نہ کر اگرچہ وہ تجھے تیرے اہل و عیال اور مال سے نکال دیں ، فرض نماز کو عَمَداً نہ چھوڑ کیونکہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی وہ اللہ تَعَالٰی کے ذمہ سے نکل گیا، شراب کبھی نہ پی کیونکہ اس کا پینا ہر برائی کی جَڑ ہے، خود کو’’ نافرمانیوں ‘‘ سے بچا کیونکہ ان سے اللہ تَعَالٰی ناراض ہوجاتا ہے، اپنے آپ کو جنگ کے دن بھگوڑا بننے سے بچا اگرچہ لوگ ہلاک ہوجائیں اور لوگ مرجائیں مگر تو ثابت قدم رہ، اپنی طاقت کے مطابق اپنے اہل وعیال پر خرچ کر، ان کی تادیب سے کبھی غافل نہ ہو اور انہیں خوفِ خدا دلاتا رہ۔(3)
صحیح ابن حبان میں روایت ہے کہ بادل والے دن نماز جلدی پڑھا لیا کرو کیونکہ جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔(4)
’’طبرانی‘‘ میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی کنیز حضرتِ امیمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے مروی ہے کہ میں ایک مرتبہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سر پر پانی ڈال رہی تھی کہ ایک شخص نے آکرکہا: مجھے وصیت فرمائی جائے، حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ تَعَالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا اگرچہ تجھے کاٹ دیا جائے اور جلادیا جائے، والدین کی’’نافرمانی‘‘ نہ کر اگرچہ وہ تجھے تیرے گھر اور مال و دولت کے چھوڑنے کا کہیں تو سب کچھ چھوڑ دے، شراب کبھی نہ پی کیونکہ یہ ہر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، ۱۱/۲۳۴، الحدیث۱۱۷۸۲
2…المعجم الاوسط ،۶/۴۹، الحدیث ۷۹۵۶
3…مسند احمد، مسند الانصار، حدیث معاذ بن جبل ، ۸/۲۴۹،الحدیث ۲۲۱۳۶
4…صحیح ابن حبان ، کتاب الصلاۃ باب الوعید علی ترک الصلاۃ ، ۳/۱۲، الجزء الثالث ، الحدیث ۱۴۶۱