Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
353 - 676
دین سے نکل گیا، گناہ اور نافرمانی نہ کرو یہ اللہ تَعَالٰی کے قہر کے اسباب ہیں اور شراب نہ پیو کیونکہ یہ گناہوں کا منبع ہے۔(1)(الحدیث)
	ترمذی کی روایت ہے کہ حضرتِ محمد مصطفی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم ترکِ نماز کے علاوہ کسی اور عمل کے چھوڑنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔(2)
	صحیح حدیث میں ہے کہ بندے اور کفر و ایمان کے درمیان فرق نماز ہے، جب اس نے نماز چھوڑ دی تو گویا اس نے شرک کیا۔(3)
	بزاز کی روایت ہے کہ جو نماز ادا نہیں کرتا اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے اور جس کا وضو صحیح نہیں ہے اس کی نماز نہیں ۔ (4)
	طبرانی کی روایت ہے کہ جس شخص میں امانت نہیں اس کا ایمان نہیں جس کا وضو صحیح نہیں ، اس کی نماز نہیں اور جس نے نماز نہیں پڑھی اس کا دین نہیں رہا، جیسے وجود میں سر کا مقام ہے اسی طرح دین میں نماز کا مقام ہے۔(5)
	  ابن ماجہ اور بیہقی میں حضرتِ ابوالدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے وصیت فرمائی: اللہ تَعَالٰی کے ساتھ شرک نہ کر اگرچہ تجھے کاٹ دیا جائے اور جلادیا جائے، فرض نماز عَمَداً نہ چھوڑ کیونکہ جس نے عَمَداً نماز چھوڑ دی وہ ہمارے ذمہ سے نکل گیا اور شراب نہ پی کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے۔(6)
	مسند بزاز میں حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے: آپ نے فرمایا: جب میری پتلیوں کی صحت کے باوجود میری بینائی ضائع ہوگئی تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ کچھ نماز چھوڑ دیں ، ہم آپ کا علاج کرتے ہیں ، میں نے کہا: ایسا نہیں ہوگا کیونکہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: جس نے نماز چھوڑ دی وہ اللہ تَعَالٰی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…الاحادیث المختارۃ، مسند انس بن مالک، ۸/۲۸۷، الحدیث۳۵۱
2…ترمذی، کتاب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلاۃ ، ۴/۲۸۲، الحدیث ۲۶۳۱
3…ابن ماجہ ، کتاب الصلاۃ ، باب ماجاء فیمن ترک الصلاۃ ،۱/۵۶۵،الحدیث ۱۰۸۰
4…مسند البزار، ۱۵/۱۷۶، الحدیث ۸۵۳۹
5…المعجم الاوسط ، ۱/۶۲۶، الحدیث ۲۲۹۲
6…ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب الصبر علی البلاء ، ۴/۳۷۶، الحدیث ۴۰۳۴