Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
352 - 676
جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کافروں جیسا کام کیا۔(1)
	طبرانی کی روایت ہے کہ جس نے عَمَداً نماز چھوڑ دی اس نے کھلم کھلا کافروں جیسا کام کیا ہے۔(2)
	ایک روایت میں ہے کہ بندے اور شرک یا کفر کے درمیان فرق ترکِ نماز ہے، جب اس نے نماز چھوڑ دی تو کافروں جیسا کام کیا۔(3)
	دوسری روایت میں ہے کہ بندے اورشرک یا کفر کے درمیان نماز چھوڑنے کے سوا اور کوئی فرق نہیں ہے، جس نے’’ نماز‘‘ چھوڑ دی اس نے مشرکوں جیسا کام کیا۔(4)
	 ایک اور روایت میں ہے کہ اس نے اسلام کو برہنہ کردیا اور اسلام کی تین بنیادیں ہیں جن پر اسلام کی عمارت قائم ہے، جس نے ان میں سے ایک کو ترک کر دیا، وہ کافر ہے اور اس کا قتل کردینا حلال ہے، کلمۂ شہادت پڑھنا یعنی اللہ تَعَالٰی کی وحدانیت کی گواہی دینا، فرض نمازادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔(5)
	دوسری روایت جس کو اسنادِ حسن کے ساتھ نقل کیا گیا ہے، یہ ہے کہ جس نے ان میں سے کسی ایک کو چھوڑ دیا    وہ اللہ تَعَالٰی کا منکر ہے، اس سے کوئی حیلہ اور بدلہ قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کا خون اور مال لوگوں کے لئے حلال ہے۔(6)
	طبرانی وغیرہ میں وہ بطریق حسن مروی ہے:حضرتِ عباد ہ بن صامت رَضِیَ اللہ عَنْہ نے کہا ہے کہ مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے سات باتوں کی وصیت فرمائی: کسی کو اللہ تَعَالٰی کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ چاہے تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے یا جلادیا جائے یا پھانسی پر لٹکا دیا جائے، عَمَداً نماز نہ چھوڑو کیونکہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی وہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترمذی،کتاب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلاۃ، ۴/۲۸۲، الحدیث۲۶۳۰
2…المعجم الاوسط ، ۲/۲۹۹، الحدیث ۳۳۴۸
3…سنن الدارمی، کتاب الصلاۃ ، باب فی تارک الصلاۃ ، ۱/۳۰۷، الحدیث ۱۲۳۳ و ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ ، باب ماجاء فیمن ترک الصلاۃ ، ۱/۵۶۴، الحدیث ۱۰۷۹ ماخوذًا
4…ابن ماجہ ، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فیمن ترک الصلاۃ ،۱/۵۶۵، الحدیث ۱۰۸۰
5…مسند ابی یعلی، مسند ابن عباس ، ۲/۳۷۸ ، الحدیث ۲۳۴۵
6…الترغیب و الترھیب ،کتاب الصلاۃ، الترھیب من ترک الصلاۃ۔۔۔الخ،۱/۲۶۰، الحدیث۸۲۱