Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
350 - 676
 لگتا ہے یا یہ کہ اس سے مراد خشوع و خضوع کا نور ہے جو باطن سے ظاہر پر چمکتا ہے اور اس کی شعائیں چہروں پر نمایاں ہوتی ہیں اور یہی بات زیادہ صحیح ہے۔ (1)یا یہ کہ اس سے مراد وہ نور ہے جو وضو کے نشانات پر قیامت کے دن ان کے چہروں پر چم کے گا۔فرمانِ نبوی ہے: جب انسان سجدہ کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے علیحدہ ہوجاتا ہے اور کہتا ہے: ہائے افسوس! اسے سجدوں کا حکم دیا گیا اور اس نے سجدہ کر کے جنت پالی اور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا تھا مگر میں نے نافرمانی کی اور میرے لئے جہنم بنایا گیا۔ (2)
 نماز کے بارے میں ارشاداتِ بزرگانِ دین:
	حضرت علی بن عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ سے مروی ہے کہ آپ ہر روز ہزار سجود کرتے تھے اس لئے لوگ انہیں سجاد کہا کرتے تھے۔
	مروی ہے کہ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ ہمیشہ مٹی پر سجدہ کیا کرتے تھے۔
	 حضرتِ یوسف بن اسباط رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہفرمایا کرتے: اے جوانو! مرض سے پہلے تندرستی کو غنیمت سمجھتے ہوئے آگے بڑھو، سوائے ایک آدمی کے اور کوئی ایسا نہیں ہے جس پر میں رشک کرتا ہوں ، وہ ہے رکوع اور سجود مکمل کرنے والا، یہی میرے اور اس کے درمیان حائل ہوگئے ہیں ۔ (3)
	حضرتِ سعید بن جبیر رَضِیَ اللہُ عَنْہ  فرماتے ہیں کہ سجود کے سوا مجھے دنیا کی کسی چیز سے اُنس نہیں ہے۔
	حضرتِ عقبہ بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ نے کہا ہے: اللہ تَعَالٰی کو بندہ کی اس عادت سے بڑھ کر کوئی اور چیز زیادہ پسند نہیں ہے جس میں وہ اللہ تَعَالٰی کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور ایسا کوئی لمحہ نہیں ہے جس میں انسان اللہ کے قریب تر ہو جاتا ہو جبکہ وہ سربَسُجود ہوجاتا ہے۔
	حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ عَنْہکا فرمان ہے: انسان سجدہ کی حالت میں رب سے بہت قریب ہوجاتا ہے لہٰذا سجود میں بہت زیادہ دعائیں مانگا کرو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…اس نکتہ پر تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجئے عوارف المعارف از شیخ المشائخ حضرتِ سہروردی۔
2…مسلم کتاب الایمان، باب اطلاق رسم الکفر۔۔۔الخ، ص ۵۶، الحدیث ۱۳۳۔ (۸۱)
3…حضرتِ یوسف بن اسباط رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ ضعف اور بڑھاپے کی وجہ سے رکوع و سجود کامل طور پر ادا نہیں کرپاتے تھے اس لیے کامل رکوع و سجود کرنے والوں پر رشک فرماتے۔ علمیہ