باب:4
رِیاضَت و خواہشاتِ نفسانی
موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو دُرود پڑھنے کا حکم:
اللہتعالیٰ نے حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر وحی نازل فرمائی کہ اے موسیٰ! اگر تم چاہتے ہوکہ میں تمہاری زبان پر تمہارے کلام سے، تمہارے دل میں خیالات سے، تمہارے بدن میں تمہاری رُوح سے، تمہاری آنکھوں میں نورِ بصارت سے اور تمہارے کانوں میں قوتِ سماعت سے زیادہ قریب رہوں تو پھر محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر کثرت سے درود بھیجو !
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ
فرمانِ الٰہی ہے:
وَ لْتَنۡظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ (1) ہر نفس یہ دیکھے کہ اس نے قیامت کے لیے کیا عمل کئے ہیں ۔
اے انسان! اچھی طرح سمجھ لے کہ تجھے برائی کی طرف لے جانیوالا تیرا نفس تیرے شیطان سے بھی بڑا دشمن ہے اور شیطان کو تجھ پر تیری خواہشات کی بدولت غلبہ حاصل ہوتا ہے لہٰذا تجھے تیرا نفس جھوٹی امیدوں اور دھو کے میں ڈالے ہے، جو شخص بے خوف ہوا اور غفلت میں گرفتار ہوا، اپنے نفس کی پیروی کرتا ہے، اس انسان کا ہر دعویٰ جھوٹا ہے، اگر تو نفس کی رضا میں اس کی خواہشات کی اتباع کرے گا تو ہلاک ہوجائے گا اور اگر اس کے محاسبہ سے غافل ہوگا تو بحرِ عصیاں میں غرق ہو جائے گا۔اگر تو اس کی مخالفت سے عاجز آکر اس کی خواہشات کی پیروی کرے گا تو یہ تجھے نارِ جہنم کی طرف کھینچ لے جائے گا، نفس کی بازگشت بھلائی کی طرف نہیں ہے بلکہ یہ مصائب کی جڑ، شرمندگی کی کان، ابلیس کا خزانہ اور ہر برائی کا ٹھکانہ ہے اور اسکی فتنہ انگیزیوں کو سوائے عالمِ خیروشر کے یعنی اللہ تَعَالٰی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
وَ اتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللّہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۸﴾ (2) اور اللہ سے ڈرو،بیشک اللہ تمہارے تمام اعمال سے با خبر ہے۔
تفسیراَبی اللیث رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ میں ہے: جب کوئی بندہ طلب آخرت کی وجہ سے اپنی گذشتہ زندگی پر غوروفکر کرتا ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے کیا آگے بھیجا ۔(پ ۲۸،الحشر: ۱۸)
2…ترجمۂکنزالایمان:اور اللہ سے ڈروبے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (پ۲۸، الحشر:۱۸)