فرمانِ نبوی ہے کہ نماز دین کا ستون ہے، جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے دین (کی عمارت) کو ڈھا دیا۔(1)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ نماز کو ان کے اوقات میں ادا کرنا۔(2)
فرمانِ نبوی ہے: جس نے مکمل پاکیزگی کے ساتھ صحیح اوقات میں ہمیشہ پانچ نمازوں کو ادا کیا قیامت کے دن نمازیں اس کے لئے نور اور حجت ہونگی اور جس نے انہیں ضائع کردیا وہ فرعون اور ہامان کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ (3)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے کہ نماز جنت کی کنجی ہے۔(4)
مزید فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی نے توحید کے بعد نماز سے زیادہ پسندیدہ کوئی عمل فرض نہیں کیا اور اللہ تَعَالٰی نے پسندیدگی ہی کی وجہ سے فرشتوں کو اسی عبادت میں مصروف فرمایا ہے، لہٰذا ان میں سے کچھ رکوع میں ، کچھ سجدہ میں ، بعض قیام میں اور بعض قعود کی حالت میں عبادت کررہے ہیں ۔ (5)
فرمانِ نبوی ہے: ’’جس نے جان بوجھ کرنماز چھوڑ دی وہ حد کفر کے قریب ہوگیا‘‘ یعنی وہ ایمان سے نکلنے کے قریب ہوگیا کیونکہ اس نے اللہ کی مضبوط رسی کو چھوڑ دیا اور دین کے ستون کو گرادیا جیسے اس شخص کو جو شہر کے قریب پہنچ جائے کہا جاتا ہے کہ وہ شہر میں پہنچ گیا ہے، داخل ہوگیا ہے، اسی طرح اس حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے۔(6)
اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی وہ محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی ذمہ داری سے نکل گیا۔(7)
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا فرمان ہے: جس نے بہترین وضو کیا پھر نماز کے ارادہ سے نکلا وہ نماز میں ہے جب تک کہ وہ نماز کے ارادہ سے مسجد کی طرف چلتا رہے، اس کے ایک قدم کے بدلے نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تذکرۃ الموضوعات للفتنی، ص۳۸ وکشف الخفاء،۲/۲۷، تحت الحدیث۱۶۱۹
2…بخاری ، کتاب التوحید، باب وسمَّی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔۔۔الخ، ۴/۵۹۰، الحدیث۷۵۳۴
3…مسند احمد، مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص، ۲/۵۷۴، الحدیث۶۵۸۷
4…ترمذی،کتاب الطہارۃ، باب ماجاء ان مفتاح۔۔۔الخ، ۱/۸۶، الحدیث ۴
5…کنزالعمال،کتاب الصلاۃ، الباب الاول۔۔۔الخ،الفصل الثانی فی فضائل الصلاۃ ،۴/۱۲۷،الجزء السابع، الحدیث ۱۹۰۳۴
6…المعجم الاوسط ، ۲/۲۹۹، الحدیث ۳۳۴۸
7…شعب الایمان،الثامن من شعب الایمان۔۔۔الخ، فصل فی بیان کبائر۔۔۔الخ،۱/۲۷۲،الحدیث۲۹۱