Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
347 - 676
	بخاری و مسلم اور دیگر اصحابِ سنن وغیرہ نے حضرتِ ابن مسعود  رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے کسی عورت کا بوسہ لے لیا اورحضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ کہہ سنایا، گویا وہ اس کا کفارہ پوچھنا چاہتا تھا، جب حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر یہ آیت نازل ہوئی:
وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ (1)		اور قائم کر نماز دن کے دونوں اطراف میں ۔ 
تو اس شخص نے عرض کی کہ یہ میرے لئے ہے؟ آپ نے فرمایا:’’ میرے ہر اس امتی کیلئے ہے جس نے ایسا کام کیا۔‘‘(2)
نماز کی تاکید میں ارشاداتِ نبویہ:
	مسنداحمد اور مسلم شریف میں حضرتِ ابو امامہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور عرض کی کہ مجھ پر حد جاری فرمائیے! اس نے ایک یا دومرتبہ یہی بات کہی مگر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے توجہ نہیں فرمائی، پھر نماز پڑھی گئی۔ جب نماز سے آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: وہ آدمی کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: میں حاضر ہوں یارسول اللہ! آپ نے فرمایا: تو نے مکمل وضو کر کے ہمارے ساتھ ابھی نماز پڑھی ہے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں ! آپ نے فرمایا:’’ تو تو گناہوں سے ایسا پاک ہے جیسے تیری ماں نے تجھے جنا تھا، آئندہ ایسا نہ کرنا!‘‘ اس وقت حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ’’نیکیاں گناہوں کو لیجاتی ہیں ‘‘ ۔(3)
	اور آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے کہ ہمارے اورمنافقوں کے درمیان فرق، عشاء اور فجر کی نماز ہے وہ ان میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(4)
	حضور سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: جو شخص اللہ تَعَالٰی سے اس حالت میں ملاقات کرے کہ اس نے نمازیں ضائع کردی ہوں تو اللہ تَعَالٰی اس کی نیکیوں کی پروا نہیں کرے گا۔(5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان: اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں (میں)۔ (پ۱۲، ھود :۴ا۱)
2…بخاری،کتاب مواقیت الصلاۃ ، باب الصلاۃ کفارۃ،۱/۱۹۶،الحدیث ۵۲۶
3…ترجمۂکنزالایمان:بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔(پ۱۲، ھود : ۱۱۴) …المعجم الکبیر للطبرانی، ۸/۱۶۰، الحدیث۷۶۷۵ 
4…شعب الایمان، باب الحادی والعشرین۔۔۔الخ، فصل الصلوات الخمس ۔۔۔الخ ۳/۵۶، الحدیث : ۲۸۵۶
5…کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ الرابعۃ فی ترک الصلاۃ ، ص۲۲