Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
346 - 676
باب 48
فضائلِ صلٰوۃ {نماز}
	فرمانِ الٰہی ہے:
اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوْقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾ (1)	تحقیق نماز مسلمانوں پر وقت مقرر پر لکھی ہوئی ہے۔
	اور فرمانِ نبوی ہے: اللہ تَعَالٰی نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کیں ، جو شخص انہیں باعظمت سمجھتے ہوئے مکمل شرائط کے ساتھ ادا کرتا ہے، اللہ تَعَالٰی کا اس کے لئے وعدہ ہے کہ وہ اس شخص کو جنت میں داخل فرمائے گا اورجو انہیں ادا نہیں کرتا اللہ تَعَالٰی کا اس کے لئے کوئی وعدہ نہیں ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو جنت میں داخل فرمادے۔(2)
	فرمانِ نبوی ہے کہ پانچ نمازوں کی مثال تم میں سے کسی ایک کے گھر کے ساتھ بہنے والی وسیع خوشگوار پانی کی نہر جیسی ہے جس سے وہ دن میں پانچ مرتبہ نہاتا ہے، کیا اس کے جسم پر میل باقی رہے گا؟ صحابہ کرام نے عرض کی: نہیں ، آپ نے فرمایا: جیسے پانی میل کچیل کو بہا لے جاتا ہے اسی طرح پانچ نمازیں بھی گناہوں کو بہا لے جاتی ہیں ۔ (3)
نماز گناہوں کا کفارہ ہے:
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشادِ گرامی ہے کہ نمازیں اپنے اوقات کے مابین سرزد ہونیوالے گناہوں کا کفارہ ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہ سے پرہیز کیا جائے جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ (4)		بے شک نیکیاں برائیوں کو کھا جاتی ہیں ۔
مطلب یہ ہے کہ وہ گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہیں گویا کہ گناہ تھے ہی نہیں ۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان:بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔ (پ۵، النساء : ۱۰۳)
2…ابوداود، کتاب الوتر، باب فیمن لم یوتر، ۲/۸۹، الحدیث ۱۴۲۰
3…شعب الایمان، باب الحادی والعشرین۔۔۔الخ، فصل فی الصلوات۔۔۔الخ، ۳/۴۲، الحدیث ۲۸۱۳
4…ترجمۂکنزالایمان:بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ (پ۱۲، ھود:۱۱۴) … مسلم ، کتاب الطہارۃ، باب الصلوات الخمس۔۔۔الخ، ص ۱۴۴، الحدیث ۱۶۔ (۲۳۳)