Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
344 - 676
	فرمانِ نبوی ہے: نیک محفل، مومن کے لئے بیس لاکھ (1)بری مجلسوں کا کفارہ ہے۔(2)
	حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے: آسمان کے رہنے والے ان گھروں کو جن میں یادِ الٰہی ہوتی ہے، ایسے دیکھتے ہیں جیسے تم ستاروں کو دیکھتے ہو (پُر شوق نگاہوں سے)
	  حضرتِ سفیان بن عیینہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا کہنا ہے: جب کوئی جماعت ذکرِ خدا کے لئے جمع ہوتی ہے تو شیطان اور دنیا علیٰحدہ ہوجاتے ہیں ، پھر شیطان دنیا سے کہتا ہے: کیا تو نے انہیں دیکھا یہ کیا کررہے ہیں ؟ دنیا کہتی ہے: انہیں چھوڑ دے، جو نہی یہ ذکر الٰہی سے فارغ ہوں گے میں انہیں گردنوں سے پکڑ کر تیرے حوالے کر دوں گی۔
	حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایک مرتبہ بازار میں تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! میں تمہیں یہاں دیکھ رہا ہوں حالانکہ مسجد میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی میراث تقسیم ہورہی ہے۔ لوگ بازار چھوڑ کر مسجد کی طرف گئے مگر انہیں کوئی میراث بٹتی دکھائی نہ دی، انہوں نے حضرتِ ابوہریرہ سے کہا: ہم نے تو مسجد میں کوئی میراث تقسیم ہوتے نہیں دیکھی۔ آپ نے پوچھا: تم نے وہاں کیا دیکھا ہے؟ بولے: ہم نے وہاں ایسی جماعت دیکھی ہے جو ذکرِ خدا کررہے ہیں اور قرآنِ مجید پڑھ رہے ہیں ، آپ نے فرمایا: یہی تو نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی میراث ہے۔(3)
ذکر کرنے والوں پر رحمتِ الٰہیہ:
	اَعمش نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور حضرتِ ابوسعید خدری (رَضِیَ اللہ عَنْہم) سے روایت کی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ تَعَالٰی نے نامۂ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ایسے سیاح فرشتوں کو پیدا فرمایا جو زمین میں سرگرم سفر رہتے ہیں ، جب وہ کسی جماعت کو ذکر میں مشغول پاتے ہیں تو دوسروں سے کہتے ہیں کہ ادھر اپنی مطلوبہ چیز کی طرف آؤ! لہٰذا وہ سب فرشتے جمع ہوجاتے ہیں اور انہیں آسمان تک گھیرے میں لے لیتے ہیں ۔ اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے: میرے بندو کو تم نے کس حال میں چھوڑا؟ وہ کیا کررہے تھے؟ فرشتے کہتے ہیں : یااللہ! وہ تیری حمد، تیری بزرگی اور تیری تسبیح بیان کررہے تھے۔ ربِ جلیل فرماتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : نہیں ۔ ربِّ جلیل فرماتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو ان کی کیا حالت ہوگی، فرشتے عرض
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…یہاں بیس لاکھ کے بجائے دو لاکھ لکھا تھا ، یقیناکتابت میں غلطی ہوئی ہوگی کیوں کہ’’ مکاشفۃ القلوب ‘‘ میں اس مقام پر عبارت یوں ہے:  ’’ المجلس الصالح یکفر عن المؤمن الفی الف مجلس من مجالس السوء ‘‘ لہٰذا ہم نے یہاں اصل کے مطابق تصحیح کردی ہے۔ علمیہ
2…فردوس الاخبار،۱/۹۷، الحدیث ۵۸۷	
3…المعجم الاوسط ، ۱/۳۹۰، الحدیث ۱۴۲۹