صبح کے بعد اور عصر کے بعد کچھ دیر یاد کرلیا کر، یہ عمل تجھے سارے دن کے لئے کافی ہوگا۔
بعض علماء کا کہنا ہے کہ اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے: جب میں کسی شخص کے دل کو اپنی یاد میں سرگرم عمل دیکھتا ہوں تو میں اس کے جملہ امور کا متولی ہوجاتا ہوں اور میں اس کا ساتھی، اس کا ہم نشیں اور ہم سخن بن جاتا ہوں ۔ حضرت حسن رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا قول ہے کہ ذکر دو ہیں : ایک تو تنہائی میں اللہ تَعَالٰی کو یاد کرنا جو بہت عمدہ اور اجر عظیم کا سبب ہے اور اس سے بھی بہتر ذکر یہ ہے کہ انسان اللہ تَعَالٰی کی حرام کردہ چیزوں میں اللہ کو یاد رکھے اور ایسے امور سے باز رہے۔
مروی ہے کہ یادِ الٰہی میں زندگی بسر کرنے والے کے سوا ہر انسان موت کے وقت پیاسا جاتا ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا فرمان ہے کہ جنتی اس لمحے کے سوا جو یادِ الٰہی میں بسر نہیں ہوا، کسی چیز پر حسرت نہیں کرے گا۔(1)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے کہ کوئی جماعت بھی ایسی نہیں ہے جو یادِ الٰہی کے لئے بیٹھی ہو مگر فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں اور رحمت خداوندی اسے ڈھانپ لیتی ہو، اللہ تَعَالٰی اپنے مقربین میں انہیں یاد کرتا ہے۔(2)
ذکر خدا کیلئے جمع ہونے والوں پر انعامِ الٰہی:
فرمان نبوی ہے کہ جب کچھ لوگ محض رضائے الٰہی کیلئے ذکر خدا کیلئے جمع ہوتے ہیں تو آسمان سے منادی ندا کرتا ہے کہ کھڑے ہوجاؤ، تمہارے گناہوں کو معاف کردیا گیا ہے اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا گیا ہے۔(3)
نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان ہے کہ کوئی قوم ایسی نہیں جو کہیں بیٹھے اور اللہ تَعَالٰی کا ذکر (نہ کرے) اور نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر درود نہ بھیجے اور قیامت کے دن وہ حسرت سے دوچار نہ ہو۔ (4)
حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: الٰہ العالمین! جب تو مجھے دیکھے کہ میں ذکر کرنے والوں کی مجلس سے اٹھ کر غافلوں کی مجلس میں جارہا ہوں تو میرے تو پاؤں توڑ دے، بلا شبہہ میرے اوپر یہ تیرا انعام ہوگا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، العاشر من شعب الایمان۔۔۔الخ ، فصل فی ادامۃ۔۔۔الخ،۱/۳۹۲،الحدیث۵۱۲ رواہ مرفوعاً
2…مسلم، کتاب الذکر۔۔۔الخ، باب فضل الاجتماع۔۔۔الخ، ص ۱۴۴۸، الحدیث ۳۹۔ (۲۷۰۰)
3…مسند احمد، مسند انس بن مالک بن النضر، ۴/۲۸۶، الحدیث ۱۲۴۵۶
4…مسند احمد، مسند ابی ھریرۃ، ۳/۵۲۸، الحدیث ۱۰۲۴۸