فرمانِ نبوی ہے کہ صبح و شام یادِ الٰہی، جہاد فی سبیل اللہ میں تلواریں توڑنے اور بے دریغ راہِ خدا میں مال لٹانے سے بہتر ہے۔(1)حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں : اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں اسے تنہائی میں یاد کرتا ہوں اور جب وہ مجھے جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس کی جماعت سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں ، جب وہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہوجاتا ہوں جب وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی وسعت کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور جب وہ میری طرف چل پڑتا ہے تو میری رحمت بڑھ کراسے سایۂ عافیت میں لے لیتی ہے یعنی میں اس کی دعاؤں کو بہت جلد قبول فرما لیتا ہوں ۔ (2)
فرمانِ نبوی ہے: سات شخص ایسے ہیں جنہیں اللہ تَعَالٰی اپنے سایۂ رحمت میں اس دن جگہ دے گا جس دن کوئی سایہ نہیں ہوگا، ان میں سے ایک وہ ہے جس نے تنہائی میں خدا کو یاد کیا اور خوفِ خدا کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔(3)
بہترین عمل:
حضرتِ ابوالدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے؛ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں تمہارے اعمال میں سے بہترین عمل کی خبر نہ دوں جو اللہ کے نزدیک سب اعمال سے پاکیزہ، سب اعمال میں بلند مرتبہ، سونے چاندی کی بخشش سے بہتر، دشمنوں سے تمہارے اس جہاد سے جس میں تم انہیں قتل کرو وہ تمہیں شہید کردیں ، افضل و اعلیٰ ہو! صحابہ کرام رَضِیَ اللہ عَنْہم نے پوچھا: حضور! وہ کونسا عمل ہے؟ آپ نے فرمایا: دائمی ذکرِ الٰہی۔(4)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے: جس شخص کو میرے ذکر نے سوال کرنے سے رو کے رکھا میں اسے بغیر مانگے سب سائلوں سے بہتر دوں گا۔(5)
حضرتِ فضیل رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں : ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے: اے میرے بندے! تو مجھے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن ابی شیبہ،کتاب الزہد، باب ما جاء فی فضل ذکر اللہ، ۸/۲۳۵، الحدیث ۲
2…بخاری ، کتاب التوحید ، باب قول اللہ تعالی (ویحذرکم اللہ نفسہ) ۴/۵۴۱، الحدیث۷۴۰۵
3…بخاری،کتاب الجماعۃ والإمامۃ، باب من جلس فی المسجد ینتظر۔۔۔الخ،۱/۲۳۶، الحدیث۶۶۰
4…ترمذی، کتاب الدعوات، باب ۶،۵/۲۴۶، الحدیث ۳۳۸۸
5…شعب الایمان، العاشر من شعب الایمان۔۔۔الخ ، فصل فی ادامۃ۔۔۔الخ،۱/۴۱۳،الحدیث۵۷۲