Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
341 - 676
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہما سے مروی ہے کہ اس آیت کے دو معنی ہو سکتے ہیں ، پہلا یہ کہ اللہ تَعَالٰی کا تمہیں یاد فرمانا تمہارے ذکر سے بہت بڑی چیز ہے، دوسرا یہ کہ ذکر خدا ہر عبادت سے زیادہ برتر اوراعلیٰ ہے۔ اس سلسلہ میں اور بھی بہت سی آیات وارد ہوئی ہیں ۔ 
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے کہ غافلوں میں ذکرِ خدا کرنے والوں کی مثال سوکھے گھاس میں سبز پودے کی سی ہے۔(1)
	مزید فرمایا کہ غافلوں میں ذکر خدا کرنے والے کی مثال بھگوڑوں کے درمیان جہاد کرنے والے کی سی ہے۔(2)
	فرمانِ نبوی ہے: ربِّ ذوالجلال فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ مجھے یاد کرتا ہے اور میری یاد میں اس کے ہونٹ وَا ہوتے ہیں تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔ (3)
ذکرِ خدا سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں :
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: انسان کے لئے ذکرِ خدا سے بڑھ کر کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو عذابِ الٰہی سے جلد نجات دلانے والا ہو، عرض کی گئی کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر یہ کہ تو اپنی تلوار سے جہاد کرے اور وہ ٹوٹ جائے۔ (4)(بار بار کے جہاد سے بھی افضل ہے)
	فرمانِ نبوی ہے کہ جو شخص جنت کے باغوں سے سیر ہونا چاہتا ہے وہ اللہ کو بہت یاد کرے۔(5)
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے پوچھا گیا کہ کونسا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جب تو مرے تو تیری زبان ذکر خدا سے شیریں ہو۔(6)
	  فرمانِ نبوی ہے کہ ذکر خدا میں صبح و شام بسر کر، تو اس حالت میں دن اور رات مکمل کرے گا کہ تجھ پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوگا۔(7)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان ، العاشرمن شعب الایمان۔۔۔الخ، فصل فی ادامۃ۔۔۔الخ، ۱/۴۱۱، الحدیث۵۶۵ ماخوذا
2…المرجع السابق، ص۴۱۲، الحدیث۵۶۷                          
 3…المرجع السابق، ص ۳۹۱، الحدیث۵۱۰
4…المعجم الاوسط ، ۲/۳، الحدیث ۲۲۹۶               
5…المعجم الکبیر، ۲۰/۱۵۷، الحدیث ۳۲۶
6…المرجع السابق، ص ۱۰۶، الحدیث ۲۰۸
7…الفتوحات المکیۃ لابن عربی، الباب الموفی ستین وخمسمائۃ ، وصیۃ نبویۃ محمدیہ، ۷/۴۱۶