جب مسافر، مسافرت میں انتقال کرتا ہے:
جب کسی مسافر پر نزع کا عالم طاری ہوتا ہے تو اللہ تَعَالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے یہ بیچارہ مسافر ہے، اپنے اہل و عیال اور والدین وغیرہ کو چھوڑ چکا ہے، جب یہ مرے گا تو اس پر کوئی تاء سف (افسوس) کرنے والا بھی نہ ہوگا، تب اللہ تَعَالٰی فرشتوں کو اس کے والدین، اولاد اور خویش و اَقارِب کی شکل میں بھیجتا ہے، جب وہ انہیں اپنے قریب دیکھتا ہے تو ان کو اپنے خویش و اَقارِب سمجھ کر حد درجہ مسرور ہوتا ہے اور اسی مسرت میں اس کی رُوح پرواز کر جاتی ہے، پھر وہ فرشتے پریشان حال ہوکر اس کے جنازہ کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں اور قیامت تک اس کی مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں ، فرمانِ الٰہی ہے:
اَللہُ لَطِیۡفٌۢ بِعِبَادِہٖ (1) اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔
ابن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں : انسان کا صدق و کذب، اس کی مصیبت اور شادمانی کے وقت ظاہر ہوتا ہے، جو شخص شادمانی و خوشحالی میں تو اللہ تَعَالٰی کا شکر ادا کرتا ہے، مگر مصائب میں فریاد وفغاں کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ اگر کسی کو دو عالم کا علم عطا کردیا جائے، پھر اس پر مصائب کی یلغار ہو اور وہ شکوہ و شکایت کرنے لگے تو اسے اس کا یہ علم و عمل کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ (یہ علم بیکار ہے)
حدیث قدسی ہے: اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے: جو میری قضا پر راضی نہیں میری عطا پر شکر نہیں کرتا وہ میرے سوا کوئی اور رب تلاش کرے۔(2)
حکایت:
وَہب بن مُنَبِّہ کہتے ہیں : اللہ کے ایک نبی نے پچاس برس اللہ کی عبادت کی، تب اللہ تَعَالٰی نے اس نبی کی طرف یہ وحی فرمائی کہ میں نے تجھے بخش دیا ہے۔ نبی نے عرض کی اے اللہ! میں نے تو کوئی گناہ ہی نہیں کیا، بخشا کس چیز کو گیا؟ اللہ تَعَالٰی نے ان کی ایک رَگ کو بند کردیا جس کی وجہ سے وہ ساری رات نہ سوس کے۔ صبح کو جب ان کے پاس فرشتہ آیا تو انہوں نے رَگ بند ہوجانے کی شکایت کی، تب فرشتہ بولا: اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے تیری پچاس برس کی عبادت سے تیری یہ ایک شکایت اَفزوں ہے۔ (اس عبادت پر تو نازاں تھا؟)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: اللہ اپنے بندو پر لطف فرماتا ہے ۔( پ۲۵،الشوریٰ:۱۹)
2…المعجم الکبیر،۲۲/۳۲۰،الحدیث ۸۰۷