کی بارگاہ میں کھڑے ہوگے اور ’’ جہنم کو دیکھ رہے ہو گے ‘‘(1)یہ بایں طور واقع ہوگا کہ پل صراط کو جہنم کے درمیان رکھا جائے گا، پس بعض مسلمان نجات پانے والے ہوں گے، بعض زخمی ہوں گے اور بعض جہنم میں گرائے جائینگے۔
’’ پھر اس دن ضرور تم سے نعمتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا ‘‘(2) یعنی شکم سیری، سردمشروبات، مکانات کے سائے، تمہاری بہترین تخلیق کا مصرف اور نیند کی آسائشوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔(3)
حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ نعمت سے مراد تندرستی ہے۔ مزید فرمایا کہ جس نے گیہوں کی روٹی کھائی، فرات کا ٹھنڈا پانی پیا اور اس کے رہنے کے لئے گھر بھی ہے، یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں سوال کیا جائیگا۔
حضرتِ ابو قلابہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: میری امت کے لوگ گھی میں خالص شہد ملاکر اسے کھائیں گے جن کے متعلق ان سے سوال کیا جائے گا۔(4)
ٹھنڈا پانی بھی ایک نعمت ہے:
حضرتِ عکرمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رَضِیَ اللہ عَنْہم نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے پوچھا: ہمیں کونسی نعمت حاصل ہے، ہم نے تو کبھی پیٹ بھر کر جو کی روٹی بھی نہیں کھائی ہے، اللہ تَعَالٰی نے نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی طرف وحی فرمائی، ان سے فرمائیے !تم جوتے پہنتے ہو اور ٹھنڈا پانی پیتے ہو، کیا یہ نعمتیں نہیں ہیں ؟(5)
ترمذی وغیرہ کی روایت ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رَضِیَ اللہ عَنْہم نے پوچھا: ہم سے کونسی نعمتوں کا سوال ہوگا! ہمیں تو پانی اور کھجوروں کے سوا کوئی غذا ہی میسر نہیں ہے! ہر وقت تلواریں ہماری گردنوں میں آویزاں ہیں اور دشمنوں سے لڑائیوں میں مصروف رہنا پڑتا ہے! وہ کونسی نعمت ہے جس کے متعلق سوال ہوگا؟ آپ نے فرمایا: عنقریب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:بے شک ضرور جہنم کودیکھو گے۔(پ۳۰، التکاثر: ۶)
2…ترجمۂکنزالایمان:پھر بے شک ضرور اس دن تم سے نعمتوں سے پرسش ہوگی۔(پ۳۰، التکاثر:۸)
3…الدرالمنثور، سورۃ التکاثر، ۸/۶۱۱
4…الزھد لاحمد بن حنبل، ص۶۶، الحدیث۱۶۶
5…تفسیر ابن ابی حاتم، ص۳۴۶۰، الحدیث ۱۹۴۶۲