Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
336 - 676
متعلق حاصل تھا اور عین الیقین فرشتوں کو حاصل ہے جو جنت، دوزخ، لوح و قلم اور عرش و کرسی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اسی کا نام عین الیقین ہے۔یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ علم الیقین زندوں کا موت اور قبروں کے متعلق علم ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ موتی قبروں میں ہیں لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے اور عین الیقین موتی کو حاصل ہے کیونکہ وہ قبور کو جنت کا ایک باغ یا پھر جہنم کا ایک گڑھا خود دیکھ چ کے ہیں ۔ 
	یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ علم الیقین قیامت کا علم اور عین الیقین قیامت اور اس کی ہولناکیوں کو دیکھ لینا ہے۔
	یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ علم الیقین جنت اور دوزخ کا علم اور عین الیقین ان کا دیکھ لینا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
	’’پھر تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے۔‘‘(1)
	 یعنی قیامت کے دن تم سے دنیا وی نعمتوں جیسے تندرستی، قوتِ سماعت، قوتِ بینائی، حصولِ رزق کے طریقے اور خورد و نوش کی تمام اَشیاء کے متعلق پوچھا جائیگا کہ تم نے ان چیزوں کو پاکر اللہ تَعَالٰی کا شکر بھی ادا کیا تھا؟ اس کی معرفت حاصل کی تھی یا انکار و کفر کے مرتکب ہوئے تھے۔
	ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ کی روایت ہے کہ حضرتِ زید بن اسلم نے اپنے والد سے روایت کی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے پڑھا کہ’’  تم کو اَموال کی کثرت کے مقابلوں نے ہلاک کردیا  ‘‘(2) یعنی تم عبادت سے غافل ہوئے۔
	’’  یہاں تک کہ تم نے قبروں کو دیکھا  ‘‘(3) یعنی تمہیں موت آگئی ۔ 
	’’  ہرگز نہیں البتہ تم جان لو گے ‘‘(4)یعنی جب تم قبروں میں داخل ہوگے۔
	’’  پھر بے شک تم عنقریب جان لو گے  ‘‘(5)جب تم قبروں سے نکل کر میدان محشر میں آؤ گے۔
	’’  ہرگز نہیں اگر تم علم یقین کے طور پر جان لیتے  ‘‘(6) یعنی تم اس وقت کو جانتے جب تم اپنے اعمال سمیت اللہ تَعَالٰی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:پھر بے شک ضرور اس دن تم سے نعمتوں سے پرسش ہوگی۔(پ۳۰، التکاثر: ۸)
2…ترجمۂکنزالایمان:تمہیں غافل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے۔ (پ۳۰، التکاثر: ۱)
3…ترجمۂکنزالایمان:یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا۔(پ۳۰، التکاثر: ۲)
4…ترجمۂکنزالایمان:ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے۔(پ۳۰، التکاثر: ۳)
5…ترجمۂکنزالایمان:پھر ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے۔(پ۳۰، التکاثر: ۴)
6… ترجمۂکنزالایمان:ہاں ہاں اگر یقین کا جاننا جانتے تو مال کی محبت نہ رکھتے۔(پ۳۰، التکاثر: ۵)