Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
335 - 676
باب 46
علم الیقین، عین الیقین اور سوالاتِ قیامت
	فرمانِ الٰہی ہے:
کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوۡنَ عِلْمَ الْیَقِیۡنِ ؕ﴿۵﴾ (1)		ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جانتے۔
	 یعنی اگر تم قیامت کے اَحوال و واقعات کو یقینی طور پر جانتے، مگر تم کو تو مال کی کثرت اور ایک دوسرے پر تفاخر نے اس بات سے غافل کردیا ہے، اگر تم یہ بات جان لیتے تو تم وہ کام کرتے جو تمہارے لئے فائدہ مند ہوتے اور ان کاموں سے بچتے جو تمہارے لئے مضر ہیں لہٰذا فرمایا گیا: اگر تم صحیح معنی میں عِلم یقین حاصل کرلیتے، جیسا کہ انبیاءے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام نے تمہیں سمجھایا کہ مال اور اپنے قابلِ فخر کارناموں کا شمار تمہیں قیامت میں کوئی فائدہ نہیں دے گا ، تم نے جو مال کی کثرت و تعداد پر فخر کیا ہے اس کی بدولت تم ضرور نارِ جہنم کو دیکھو گے چنانچہ خالقِ کائنات نے قسم کھائی کہ تم ضرور اپنی ان آنکھوں سے اپنے روبرو جہنم اور اس کی شدت کو دیکھو گے۔
ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَیۡنَ الْیَقِیۡنِ ۙ﴿۷﴾ ((2	پھر تم اسے ضرور یقین کی آنکھ سے دیکھو گے۔
	یعنی جہنم کا اس طریقے سے مشاہدہ کرو گے کہ جسے عین الیقین کہا جاتا ہے اور جس کے بعد کسی شک و شبہہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ (3)
مراتب یقین کا فرق:
	اگر علم الیقین اور عین الیقین کا فرق دریافت کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ علم الیقین انبیاءے کرام کو اپنی نبوت کے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:ہاں ہاں اگر یقین کا جاننا جانتے تو مال کی محبت نہ رکھتے۔ (پ۳۰، التکاثر: ۵)
2…ترجمۂکنزالایمان:پھر بے شک ضرور اسے یقینی دیکھنا دیکھو گے۔ (پ۳۰،التکاثر:۷)
3… آگ کی خاصیت جلانا ہے جو سنا اس کا نام علم الیقین ہے، دوسرے کو آنکھوں سے جلتے دیکھا عین الیقین ہے اور خود آگ سے جلے یا اپنا جلنا دیکھا یہ حق الیقین ہے۔