حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ مومن کی قبر ایک سبز باغ ہوتا ہے، اس کی قبر ستر ہاتھ فراخ کردی جاتی ہے اور وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چم کے گا، پھر فرمایا کہ یہ آیت مبارکہ:
فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا (1) بے شک اس کے لیے زندگی تنگ ہوتی ہے۔
جانتے ہو کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: یہ کافر کے عذاب کے متعلق ہے، اس کی قبر میں اس پر ننانوے سانپ مسلط کردیئے جاتے ہیں ، ہر سانپ کے سات سَر ہوتے ہیں جو اس کے وجود کو نوچتے، اسے کھاتے اور حشر کے دن تک اس پر گرم گرم پھونکیں مارتے رہتے ہیں۔(2)
اور یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ اس مخصوص عدد پر تعجب نہ کیجئے کیونکہ ان سانپوں کی تعداد ان برائیوں کی تعداد کے برابر ہے جیسے تکبر، دکھاوا، حسد، کینہ اور کسی کے لئے دل میں میل رکھنا وغیرہ اگرچہ ان برائیوں کے اصول گنے چنے ہیں مگر ان کی شاخیں اور پھر ان شاخوں کی شاخیں بہت زیادہ ہیں جو سب کی سب مہلک ہیں اور قبر میں یہی صفاتِ مذمومہ سانپوں کی شکل میں تبدیل ہوکر آئیں گی، جو برائی اس کافر کے وجود میں زیادہ راسخ ہوگی وہ اژدہا کی طرح ڈسے گی، جو ذرا کم ہوگی وہ بچھو کی طرح ڈنک مارے گی اور جو ان دو کے درمیان ہوگی وہ سانپ کی شکل میں نمودار ہوگی۔
اَصحابِ معرفت اور صاحبِ دل حضرات اپنے نورِ بصیرت سے ان مہلکات اوران کی فروع کو جانتے ہیں مگر ان کی تعداد پر مطلع ہونا، یہ نورِ نبوت کا کام ہے اس جیسی حدیثوں کے ظاہری معنی صحیح اور ان کے پوشیدہ معانی بھی ہیں جو اہلِ معرفت بخوبی سمجھتے ہیں ، لہٰذا اگرکسی ظاہر بین پر ان کے حقائق منکشف نہ ہوں تو اسے انکار کی بجائے تصدیق اور تسلیم سے کام لینا چاہئے کیونکہ ایمان کا کم از کم درجہ یہی ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: تو بے شک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے۔ (پ۱۶، طٰہٰ : ۱۲۴)
2…ابن حبان،کتاب الجنائز و مایتعلق۔۔۔الخ، فصل فی احوال المیت فی قبر، ۴/۵۰، الجزء الخامس، الحدیث ۳۱۱۲