خوش اور پسندیدہ ہو کر لوٹ جا، اللہ تَعَالٰی کی تیار کردہ آسائشوں اور عزت کی طرف جا اور جب روح نکل آتی ہے تو اسے اس مشک اور نازبو میں رکھ کر اوپر ریشم لپیٹ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے۔(1)
کافر پر عذاب:
جب کافر پر موت کا وقت قریب آتا ہے تو فرشتے ایک ٹاٹ پر جہنم کی چنگاریاں رکھ کر آتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی روح شدید عذاب سے کھینچی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے: اے نفسِ خبیث! مصیبت زدہ اور مقہور ہوکر اللہ تَعَالٰی کے عذاب اور ذلت و رسوائی کی طرف نکل جا، جب اس کی روح نکل آتی ہے تو اسے ان انگاروں پر رکھا جاتا ہے جس سے وہ اُبلنے لگتی ہے اور اس پر ٹاٹ لپیٹ کر پھر جہنم کی طرف لے جایا جاتا ہے۔
حضرتِ محمد بن کعب قرظی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے؛ انہوں نے یہ فرمانِ الٰہی:
حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوۡنِ ﴿ۙ۹۹﴾ لَعَلِّیۡۤ اَعْمَلُ صٰلِحًا فِیۡمَا تَرَکْتُ (2)
یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی ایک پر موت آئے تو وہ کہتا ہے اے میرے رب مجھے واپس لوٹا تاکہ میں نیک عمل کروں اس جگہ جسے میں چھوڑ آیا ہوں ۔
پڑھ کر کہا: یہ سن کر رب تعالیٰ نے فرمایا: تو کیا چاہتا ہے اور تجھے کس چیز کی خواہش ہے؟ کیا تو اس لئے جانا چاہتا ہے تاکہ مال جمع کرے؟، درخت لگائے، عمارتیں بنائے اور نہریں کھدوائے؟ وہ کہے گا نہیں بلکہ اس لئے کہ میں چھوڑے ہوئے نیک عمل کرلوں گا۔
رب فرماتا ہے:
’’تحقیق یہ بات ہے جسے وہ کہنے والا ہے ۔‘‘(3)
یعنی ہر کافر موت کے وقت یہی کلمات ضرور کہتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند البزار،۱۷/۲۹، الحدیث۹۵۴۱
2…ترجمۂکنزالایمان:یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب! مجھے واپس پھیر دیجئے شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں۔ (پ۱۸، المومنون: ۹۹،۱۰۰)
3…ترجمۂکنزالایمان: ہَشت (ہرگز نہیں) یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے۔ (پ۱۸،المومنون:۱۰۰)