رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسے واپس لوٹاؤ اور اسے وہ عذاب دکھلاؤ جو میں نے اس کے لئے قبر میں تیار کیا ہے کیونکہ انسان سے میرا وعدہ ہے : ’’تمہیں ہم نے مٹی سے پیدا کیا اور ہم تمہیں اسی میں لوٹائیں گے۔‘‘(1)
اور وہ مردہ قبر میں دفن کر کے واپس جانے والوں کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے تب اس سے کہا جاتا ہے: اے انسان! تیرا رب کون ہے؟تیرا نبی کون ہے؟ اور تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا اور اسے کہا جاتا ہے: تو نہ جانے۔
پھر اس کے پاس ایک بدصورت، بدبودار اور انتہائی غلیظ کپڑوں والا آکر کہتا ہے: تجھے قہر خداوندی اور دائمی دردناک عذاب کی خوشخبری ہو، مردہ کافر کہتا ہے: اللہ تَعَالٰی تجھے بری خبر سنائے تو کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میں تیرے اعمال بد ہوں ۔ بخدا تو برائیوں میں بہت تیزی دکھاتا تھا اور نیکیوں سے اعراض کیا کرتا تھا لہٰذا اللہ تَعَالٰی نے تجھے بری جزادی۔ کافر کہتا ہے: اللہ تَعَالٰی تجھے بھی جزا دے۔
پھر اس کے لئے ایک گونگا، اندھا اور بہرا فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے، جس کے پاس لوہے کا ہتھوڑا ہوتا ہے جسے اگر جن و انسان مل کر اٹھاناچاہیں تو نہ اٹھا سکیں ، اگر وہ پہاڑ پرمارا جائے تو وہ مٹی ہوجائے۔ وہ فرشتہ اس انسان کو ہتھوڑا مارتا ہے جس سے وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے پھر وہ زندہ ہوجاتا ہے اور فرشتہ اسے آنکھو ں کے درمیان مارتا ہے جس کی آواز جن و انسان کے سوا زمین کی تمام مخلوق سنتی ہے، پھر منادی ندا کرتا ہے: اس کے لئے جہنم کی دوتختیاں بچھاؤ اور اس کے لئے جہنم کی جانب ایک دروازہ کھول دو! لہٰذا اس کے لئے جہنم کے دو تختے بچھادیئے جاتے ہیں اور جہنم کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ (2)
حضرت محمد بن علی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ہر مرنے والے پر موت کے وقت اس کے اچھے اور برے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، وہ نیکیوں کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتا ہے اور گناہوں کے دیکھنے سے آنکھیں چراتا ہے۔
حضرتِ ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: مومن پر جب موت کا وقت قریب آتا ہے تو فرشتے ریشم کے ایک کپڑے میں مشک اور ناز بو کی ٹہنیاں لاتے ہیں ، ان جنتی اشیاء کو دیکھ کر مومن کی روح ایسی آسانی سے نکلتی ہے جیسے آٹے میں سے بال نکلتا ہے اور کہا جاتا ہے: اے نفسِ مُطْمَئِنہ! اپنے رب کی طرف
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے۔(پ۱۶، طحہ: ۵۵)
2…المستدرک للحاکم، کتاب الایمان، باپ مجیء ملک الموت۔۔۔الخ ،۱/۱۹۸، الحدیث۱۱۴