مردہ قبر میں لوگوں کے جوتوں کی چاپ کو سنتا ہوتا ہے، جب وہ اسے دفن کر کے واپس جارہے ہوتے ہیں ، تب اسے کہا جاتا ہے کہ اے انسان! تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور تیرا نبی کون ہے؟ وہ جواب میں کہتا ہے: میرا رب اللہ، میرا دین اسلام اور میرا نبی محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہے۔
پھر فرمایا: قبر میں فرشتے سخت سرزنش کرتے ہیں اور یہ آخری مصیبت ہے جو میت پر قبر میں نازل ہوتی ہے۔ جب وہ ان کے سوالات کے جواب سے فارغ ہو جاتا ہے تو منادی نداء کرتا ہے: تو نے سچ کہا اور یہی فرمانِ الٰہی ہے:
یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ(1) اللہ تَعَالٰی مومنوں کو مستحکم بات کے ساتھ ثابت قدم رکھتا ہے۔
پھر اس کے پاس ایک حسین و جمیل شخص آتا ہے جس کے جسم سے خوشبو کی لپٹیں آتی ہیں اوروہ انتہائی دیدہ زیب لباس زیب ِ تن کئے ہوئے ہوتا ہے، وہ آکر کہتا ہے کہ تجھے رحمتِ خداوندی اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کی امین ’’جنت‘‘ کی خوشخبری ہو، مومن جواب میں کہتا ہے: اللہ تجھے بھلائی سے سرفراز فرمائے، تو کون ہے؟ جواب ملتا ہے: میں تیرا نیک عمل ہوں ، تونیکیوں میں بڑھ کر حصہ لیتا تھا اور برائیوں سے رک جاتا تھا اس لئے اللہ تَعَالٰی نے تجھے بہترین جزاء دی ہے۔
پھر منادی ندا کرتا ہے کہ اس مومن کے لئے جنتی فرش بچھا دو اور اس کے لئے جنت کی جانب ایک دروازہ کھول دو، چنانچہ اس کے لئے جنتی فرش بچھادیا جاتا ہے اور جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور وہ دعا مانگتا ہے، اے اللہ! قیامت کو جلدی قائم فرماتاکہ میں اپنے اہل و عیال اور مال سے ملاقات کروں ۔
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جب کافر کا آخری وقت قریب آتا ہے اور دنیا سے رخصت ہوا چاہتاہے تو سخت بے رحم فرشتے آگ اور دوزخ کے تارکول کا لباس لئے آتے ہیں اور اسے انتہائی خوفزدہ کردیتے ہیں ، جب اس کی روح نکلتی ہے تو آسمان اور زمین کے درمیان رہنے والے تمام فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں ، آسمانوں کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور ہر دروازہ یہ چاہتا ہے کہ یہ روح ادھر سے نہ گزرے، جب اس کی روح اوپر چڑھتی ہے تو اسے نیچے پھینک دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: اے اللہ !تیرا فلاں بندہ آیا ہے جسے زمین و آسمان نے قبول نہیں کیا ہے،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر۔ (پ۱۳، ابراہیم : ۲۷)