Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
330 - 676
 روشنی حاصل کرتا رہے گا۔
	حضرتِ عبید بن عمیر نے ایک جنازہ کے جلوس میں کہا: مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: میت کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے، دراں حالیکہ (1)وہ چلنے والوں کے قدموں کی چاپ کو سن رہا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ قبر گفتگو کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اے انسان !تجھ پر افسوس ہے کیا تجھے مجھ سے، میری تنگی سے، بدبو سے، ہیبت اور کیڑوں سے نہیں ڈرایا گیا تھا! اب تو میرے لئے کیا تیاری کر کے لایا ہے؟(2)
مومن کی وفات پر فرشتوں کی آمد:
	حضرتِ براء بن عازب رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ ہم حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ساتھ ایک انصاری جوان کے جنازہ میں گئے، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم  اس کی قبر پر سرجھکا کر بیٹھ گئے، پھر تین مرتبہ: 
اللّٰھُمَ اِنَّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
اے اللہ! میں تجھ سے عذابِ قبر سے پناہ مانگتا ہوں ۔ 
کہہ کر فرمایا کہ جب مومن کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اللہ تَعَالٰی اس کی طرف ایسے فرشتے بھیجتا ہے جن کے چہرے سورج کی طرح روشن ہوتے ہیں ، وہ اس کے لئے خوشبوئیں اور کفن ساتھ لاتے ہیں اور حدِ نظر تک بیٹھ جاتے ہیں ، جب اس مومن کی روح پرواز کرتی ہے تو آسمان و زمین کے درمیان رہنے والے تمام فرشتے اس کے درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہیں ، اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور آسمان کے ہر دروازے کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ روح میرے یہاں سے داخل ہو، جب اس کی روح اوپر کوجاتی ہے تو کہا جاتا ہے: اے اللہ !تیرا فلاں بندہ آگیا ہے۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: 
	اسے لے جاؤ اور اسے وہ انعامات دکھلاؤ جو میں نے اس کے لئے تیار کئے ہیں کیونکہ میں نے وعدہ کیا ہے کہ  ’’  انہیں مٹی سے میں نے پیدا کیا ہے اور اسی میں ان کو لوٹاؤں گا۔ ‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…در۔آں۔ حالے۔ کہ۔ یعنی اس حال میں کہ ۔  علمیہ 
2…الزھد لابن المبارک ، زیادات الزہد بروایۃ نعیم، باب ما یبشر بہ  المیت۔۔۔الخ، ص۴۱، الحدیث ۱۶۳
3… ترجمۂکنزالایمان: ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے۔ (پ۱۶، طہٰ :۵۵)