والے! تو نے اپنے ان رشتہ داروں سے عبرت کیوں نہ حاصل کی جو دنیاوی نعمتوں پر اِترایا کرتے تھے مگر وہ تیرے سامنے میرے پیٹ میں گم ہو گئے، ان کی موت انہیں قبروں میں لے آئی اورتونے انہیں کندھوں پر سوار اس منزل کی طرف آتے دیکھا کہ جس سے کوئی راہِ فرار نہیں ہے۔
اعمال بھی میّت سے سوال کرتے ہیں :
یزیدرقاشی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ مجھے یہ روایت ملی ہے: جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے اعمال جمع ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تَعَالٰی انہیں قوتِ گویائی دیتا ہے اور وہ کہتے ہیں : اے قبر کے تنہا انسان! تیرے سب دوست اور عزیز تجھ سے جدا ہوگئے ہیں ، آج ہمارے سوا تیرا اور کوئی ساتھی نہ ہوگا۔
حضرتِ کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ جب نیک آدمی کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے اعمالِ صالحہ، نماز، روزہ، حج، جہاد اور صدقہ وغیرہ اس کے پاس جمع ہو جاتے ہیں ، جب عذاب کے فرشتے اس کے پیروں کی طرف سے آتے ہیں تو نماز کہتی ہے: اس سے دور رہو، تمہارا یہاں کوئی کام نہیں ، یہ ان پیروں پر کھڑا ہوکر اللہ تَعَالٰی کی لمبی لمبی عبادت کرتا تھا۔
پھر وہ فرشتے سر کی طرف سے آتے ہیں تو روزہ کہتا ہے: تمہارے لئے اس طرف کوئی راہ نہیں ہے کیونکہ دنیا میں اللہ تَعَالٰی کی خوشنودی کے لئے اس نے بہت روزے رکھے اور طویل بھوک پیاس برداشت کی، فرشتے اس کے جسم کے دوسرے حصوں کی طرف سے آتے ہیں تو حج اور جہاد کہتے ہیں کہ ہٹ جاؤ! اس نے اپنے جسم کودکھ میں ڈال کر اللہ تَعَالٰی کی رضا کے لئے حج اور جہاد کیا تھا لہٰذا تمہارے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے ۔
پھر وہ ہاتھوں کی طرف سے آتے ہیں تو صدقہ کہتا ہے: میرے دوست سے ہٹ جاؤ! ان ہاتھوں سے کتنے صدقات نکلے ہیں جو محض خوشنودیٔ خدا کے لئے دیئے گئے اور ان ہاتھوں سے نکل کر وہ بارگاہِ الٰہی میں مقبولیت کے درجے پر فائز ہوئے لہٰذا یہاں تمہارا کوئی کام نہیں ہے۔ پھر اس میت کو کہا جاتا ہے کہ تیری زندگی اور موت دونوں بہترین ہیں اور رحمت کے فرشتے اس کی قبر میں جنت کا فرش بچھاتے ہیں ، اس کے لئے جنتی لباس لاتے ہیں ، حدِ نگاہ تک اس کی قبر کو فراخ کردیا جاتا ہے اور جنت کی ایک قندیل اس کی قبر میں روشن کردی جاتی ہے جس سے وہ قیامت کے دن تک