باب 45
حالات و سوالاتِ قبر
فرمانِ نبوی ہے:جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر کہتی ہے: اے انسان! تجھ پر افسوس ہے تجھے میرے بارے میں کس چیز نے دھوکہ میں ڈالا تھا؟ کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ میں آزمائشوں ، تاریکیوں ، تنہائی اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ، جب تو مجھ پر سے آگے پیچھے قدم رکھتا گزرا کرتا تھا تو تجھے کونسا غرور گھیرے ہوتا تھا؟ اگر میت نیک ہوتی ہے تو اس کی طرف سے کوئی جواب دینے والا قبر کو جواب دیتا ہے کیا تجھے معلوم نہیں ہے یہ شخص نیکیوں کا حکم دیتا اور برائیوں سے روکا کرتا تھا۔ قبر کہتی ہے: تب تو میں اس کے لئے سبزے میں تبدیل ہوجاؤں گی، اس کا جسم نورانی بن جائیگا اور اس کی روح اللہ تَعَالٰی کے قربِ رحمت میں جائے گی۔(1)
مَدفن کی نداء:
عبید بن عمیر اللیثی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص مرتا ہے تو زمین کا وہ ٹکڑا جس میں اس نے دفن ہونا ہوتا ہے، ندا کرتا ہے کہ میں تاریکی اور تنہائی کا گھر ہوں ، اگر تو اپنی زندگی میں نیک عمل کرتا رہا تومیں آج تجھ پر سراپا رحمت بن جاؤں گا اور اگر تو نافرمان تھا تو میں آج تیرے لئے سزا بن جاؤں گا۔ میں وہ ہوں کہ جو مجھ میں حق کا فرمانبردار بن کر آتا ہے وہ خوش ہوکر باہر نکلتا ہے اور جو نافرمان بن کرآتا ہے وہ ذلیل ہوکر باہر نکلتا ہے۔
حضرتِ محمد بن صبیح رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہکہتے ہیں کہ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ جب آدمی کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اسے عذاب دیا جاتا ہے تو اس کے قریبی مردے کہتے ہیں : اے اپنے بھائیوں اور ہمسائیوں کے بعد دنیا میں رہنے والے! کیا تو نے ہمارے جانے سے کوئی نصیحت حاصل نہ کی؟ اور تیرے سامنے ہمارا مرکر قبروں میں دفن ہوجانا کوئی قابلِ غور بات نہ تھی؟ تونے ہماری موت سے ہمارے اعمال ختم ہوتے دیکھے؟ لیکن تو زندہ رہا اور تجھے عمل کرنے کی مہلت دی گئی ،مگر تو نے اس مہلت کو غنیمت نہ جانا اور نیک اعمال نہ کئے اور اس سے زمین کا وہ ٹکڑا کہتا ہے: اے دنیا کی ظاہری پر اِترانے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، ۲۲/۳۷۷، الحدیث۹۴۲