نظر آیا جس کے چہرے پر نور برس رہا تھا، لباس انتہائی پاکیزہ پہنے اور اس سے خوشبو کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں ۔ آپ نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا: اے عزرائیل! اگر مومن کو موت کے وقت اور کوئی انعام نہ ملے، صرف تمہاری صورت ہی دیکھنے کو مل جائے تو یہی کافی ہے اور بڑا انعام ہے۔
محافظ فرشتوں کا مشاہدہ:
موت کے وقت ایک مصیبت محافظ فرشتوں کا مشاہدہ ہے۔حضرتِ وہیب رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ جب بھی کوئی آدمی مرتا ہے تو وہ مرنے سے پہلے ’’نامۂ اعمال‘‘ لکھنے والے فرشتوں کا مشاہدہ کرتا ہے، اگر وہ آدمی نیک ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اللہ تَعَالٰی تجھے ہماری طرف سے جزائے خیردے، تو نے ہمیں بہت سی بہترین مجالس میں بٹھلایا اور بہت ہی نیک کام لکھنے کو دیئے۔
اور اگر مرنے والا گنہگار ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اللہ تجھے ہماری طرف سے جزائے خیر نہ دے، تو نے بہت ہی بری مجالس میں ہمیں بٹھلایا اور گناہوں اور فحش کلام سننے پر مجبور کیا، اللہ تجھے بہتر جزا نہ دے۔ اس وقت انسان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں اور وہ کسی چیز کو نہیں دیکھ پاتا سوائے اللہ تَعَالٰی کے فرشتوں کے۔
٭…تیسری آفت گنہگاروں کا جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھنا اور وہاں جانے سے پہلے ہی اِنتہائی خوفزدہ ہوجانا ہے، اس وقت وہ نزع کے عالم میں ہوتا ہے، اس کے اعضائے بدن ڈھیلے پڑجاتے ہیں اور اس کی روح نکلنے کو تیار ہوتی ہے۔ مگر وہ ملک الموت کی آواز کے (جو دوبشارتوں میں سے ایک پر مشتمل ہوتی ہے) بغیر نہیں نکل سکتی، یا تو یہ کہ اے دشمنِ خدا! تجھے جہنم کی بشارت ہو، یا پھر یہ کے اے اللہ کے دوست! تجھے جنت کی بشارت ہو، اسی لئے عقلمند موت کے وقت سے بہت خوفزدہ رہتے ہیں ۔
نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی شخص بھی اس وقت تک دنیا سے نہیں نکلتا جب تک کہ اپنا ٹھکانا، خواہ وہ جنت میں ہو یا جہنم میں ہو، دیکھ نہ لے۔(1)
……٭…٭…٭……
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کتاب ذکر الموت لابن أبی الدنیا ،۵/۴۹۴، الحدیث ۳۰۳