ایک کاسۂ سر سے حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کی گفتگو:
مروی ہے کہ حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا ایک انسانی کھوپڑی کے قریب سے گزر ہوا، آپ نے اسے پاؤں سے ٹھونک دیا اور فرمایا: بحکمِ خدا مجھ سے بات کر، کھوپڑی بولی: اے روح اللہ! میں فلاں فلاں زمانے کا بادشاہ تھا، ایک مرتبہ میں اپنے ملک میں تاج سر پررکھے، لشکر کے گھیرے میں تخت پر بیٹھا ہوا تھا، اچانک ملک الموت میرے سامنے آگیا جسے دیکھ کر میرا ہر عضو معطل ہوگیا اور میری روح پرواز کرگئی۔ پس اس اجتماع میں کیا رکھا تھا، جدائی تو سامنے کھڑی تھی اور اس اُنس و محبت میں کیا تھا، وحشت ہی وحشت اورتنہائی ہی تنہائی تھی، یہ دھوکہ ہے جو نافرمانوں نے ڈال دیا جو اطاعت مندوں کے لئے نصیحت ہے۔
یہ وہ آفت ہے جسے ہر گنہگار اور فرمانبردار دیکھتا ہے۔ انبیاءے کرام نے موت کے وقت صرف نزع کی سختی کو بیان فرمایا ہے، اس خوف و دہشت کا تذکرہ نہیں کیا جو ملک الموت کی صورت دیکھنے والے انسان پر طاری ہوتا ہے۔ اگر ملک الموت کی صورت کو کوئی رات کو خواب میں دیکھ لے تو اسے بقیہ زندگی بسر کرنا اجیرن ہو جائے، چہ جائیکہ اسے موت کی سختی کے وقت ایسی ہیبت ناک شکل میں دیکھے۔
اللہ تَعَالٰی کے فرمانبردار اور نیک لوگ ملک الموت کو انتہائی حسین و جمیل شکل میں دیکھتے ہیں چنانچہ حضرتِ عکرمہ حضرتِ ابن عباس (رَضِیَ اللہُ عَنْہُم) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامبہت غیرت مند انسان تھے، آپ کا ایک عبادت خانہ تھا، جب آپ باہر جاتے اسے بند کر جاتے۔ ایک دن باہر سے تشریف لائے تو دیکھا کہ عبادت خانہ میں ایک آدمی کھڑا ہے۔ آپ نے پوچھا: تجھے کس نے میرے گھر میں د اخل کیا ہے؟ وہ بولا: اس کے مالک نے ۔ آپ نے فرمایا:’’ اس کا مالک تو میں ہوں ۔ ‘‘اس نے کہا: مجھے اس نے داخل کیا ہے جو اس مکان کا آپ سے اور مجھ سے زیادہ مالک ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا تم فرشتوں میں سے ہو؟ وہ بولا: ہاں ! میں ملک الموت ہوں ۔ آپ نے فرمایا: کیا تم مجھے اپنی وہ صورت دکھلا سکتے ہو جس شکل میں تم مومنوں کی روح کو قبض کرتے ہو؟ ملک الموت نے کہا: ہاں ! آپ ذرا دوسری طرف توجہ کیجئے۔
چند لمحے دوسری طرف متوجہ ہونے کے بعد آپ نے دوبارہ اس کی طرف دیکھا تو انہیں ایک حسین و جمیل جوان