٭…پہلی:نزع کی تکلیف، جو ابھی مذکور ہوچکی ہے۔
٭…دوسرے: عزرائیل کی صورت کا مشاہدہ اور اسے دیکھ کر دل میں انتہائی خوف و دہشت کا پیدا ہونا، اگر بے پناہ ہمت والا آدمی بھی ملک الموت کی اس صورت کو دیکھ لے جو وہ فاسق و فاجر کی موت کے وقت لے کر آتے ہیں تو اسے تابِ تحمل نہ رہے۔(1)
مروی ہے کہ حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامنے ملک الموت سے کہا: کیا تم مجھے اپنی وہ صورت دکھا سکتے ہو جس میں تم گنہگاروں کی روح قبض کرنے کو جاتے ہو؟ ملک الموت بولے: آپ میں دیکھنے کی تاب نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: میں دیکھ لوں گا چنانچہ ملک الموت نے کہا: تھوڑی سی دیر دوسری طرف توجہ کیجئے۔
جب آپ نے کچھ دیر کے بعد دیکھا تو ایک کالا سیاہ آدمی جس کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے، بدبو کے بھبھ کے اٹھ رہے تھے، سیاہ کپڑے پہنے ہوئے اور اس کے منہ اور نتھنوں سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے اور دُھواں اٹھ رہا تھا، سامنے نظر آیا، حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامیہ منظر دیکھ کر بیہوش ہوگئے، جب آپ کو ہوش آیا تو دیکھا کہ ملک الموت سابقہ شکل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا:
اگر فاسق و فاجر کے لئے موت کی اور کوئی سختی نہ ہو تب بھی صرف تمہاری صورت دیکھنا ہی ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے؛ حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامانتہائی غیرت مند جوان تھے، جب آپ باہر تشریف لے جاتے تو دروازے بند کر جاتے، ایک دن آپ گھر کے دروازے بند کر کے باہر تشریف لے گئے۔ آپ کی زوجۂ محترمہ نے دیکھا کہ صحن میں ایک آدمی کھڑا ہوا تھا، وہ بولیں نہ جانے اس کو کس نے گھر میں داخل ہونے دیا ہے،اگر داؤد عَلَیْہِ السَّلَامآگئے تو ضرور انہیں دکھ پہنچے گا۔ پھر حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَام تشریف لائے اور اسے کھڑا دیکھ کر پوچھا: کون ہو؟ اس نے کہا: میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے بھی نہیں ڈرتا، نہ کوئی پردہ میری راہ میں حائل ہوتا ہے۔ حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَام خاموش کھڑے کے کھڑے رہ گئے اور فرمایا: تب تو تم ملک الموت ہو۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… موت کی تیسری مصیبت کا بیان آگے صفحہ نمبر 338پر ہے۔ علمیہ
2…مسند احمد، مسند ابی ھریرۃ ،۳/۴۰۰ ، الحدیث ۹۴۳۲