نے موت کو کیسا پایا؟ حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی: جیسے چڑیا جال میں پھنس جاتی ہے اور وہ مرتی نہیں بلکہ آسائش طلب کرتی ہے اور نہ رہائی پاتی ہے کہ اُڑجائے(یہی حال دم نزع انسان کا ہوتا ہے)۔
یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ایسا درد محسوس کیا جیسے زندہ بکری کی قصاب کھال اُتار رہا ہو۔
مروی ہے کہ موت کے وقت حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے قریب پانی کا پیالہ رکھا تھا، آپ اس میں دستِ اَطہر ڈبو کر پیشانی پر ملتے اور فرماتے: اے اللہ! مجھ پر موت کی سختیوں کو آسان فرما اور حضرت خاتونِ جنت رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کھڑی رورہی تھیں ، ہائے میرے ابا کی تکلیف! اور آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فرمارہے تھے کہ تیرے باپ پر آج کے بعد کوئی دُکھ وارد نہیں ہوگا۔(1)
حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے حضرتِ کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے کہا: ہمیں موت کی شدت کے متعلق بتاؤ، حضرتِ کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے کہا: امیرالمومنین! موت ایسی ٹہنی کی طرح ہے جس میں بہت زیادہ کانٹے ہوں اور وہ انسان کے جسم میں داخل ہوگئی ہو اور اس کے ہر ہر کانٹے نے ہر رگ میں جگہ پکڑ لی ہو پھر اسے ایک آدمی انتہائی سختی سے کھینچے، توکچھ باہر آجائے اور باقی جسم میں باقی رہ جائے۔
فرمانِ نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہے کہ بندہ موت کی سختیوں کو بیماری سمجھ کر ان کا علاج کرتا ہے مگر اس کے جسم کے اعضاء ایک دوسرے سے وَداع ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تجھ پر سلام ہو، اب ہم قیامت تک کے لئے ایک دوسرے سے جدا ہو رہے ہیں ۔ (2)
’’مذکورہ بالا احوال‘‘ ان مقدس ہستیوں کے تھے جو اللہ تَعَالٰی کے دوست اور محبوب ہیں ، ہم جو گناہوں سے آلودہ ہیں ، ہماری کیا حالت ہوگی! ہمارے لئے تو موت کی سختیوں کے علاوہ اور بھی آفتیں ہوں گی۔
موت کی تین مصیبتیں ہوتی ہیں :
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی ذکر مرض۔۔۔الخ، ۲/۲۸۲، الحدیث ۱۶۲۳ملخصا و بخاری، کتاب المغازی ، باب مرض النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔۔۔الخ، ۳/۱۶۰، الحدیث ۴۴۶۲
2…کنز العمال،کتاب المزارعۃ من قسم الأفعال، الباب الثانی فی أمور قبل الدفن، الفصل الأول فی المحتضر۔۔۔الخ، ۸/۲۳۹، الجزء الخامس عشر، الحدیث ۴۲۱۷۶ و رسالہ قشیریہ ، باب احوالھم عند الخروج من الدنیا، ص ۳۳۴