زید بن اسلم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب مومن کسی اپنے عمل کی وجہ سے کسی درجہ کو نہیں پاسکتا تو موت کے وقت اسے سکرات اور اس کے دُکھ سے واسطہ پڑتا ہے تاکہ وہ اس طرح جنت کے اس آخری درجہ کو بھی حاصل کرے جسے وہ اعمال سے حاصل نہیں کرسکا، اگر کسی کافر کے کچھ اچھے اَعمال ہوتے ہیں اور دنیا میں اسے اس کا بدلہ حاصل نہیں ہوسکا ہے تو اس پر موت کی شدت کو ہلکا کردیا جاتا ہے تاکہ وہ ان اچھے کاموں کا بدلہ پالے اور مرنے کے بعد سیدھا جہنم میں جائے۔
ایک صاحب اکثر مریضوں سے موت کی شدت کے متعلق گفتگو کیا کرتے تھے، جب وہ خود مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو لوگوں نے ان سے موت کی شدت کے بارے میں سوال کیا، وہ کہنے لگا: ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان زمین مل گئے ہیں اور میری روح سوئی کے نا کے سے نکل رہی ہے۔
فرمانِ نبوی ہے کہ مرگِ مفاجات مومن کے لئے راحت اور گنہگار کے لئے باعث زحمت ہے۔(1)
حضرتِ مکحول رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اگر میت کے بالوں میں سے ایک بال زمین و آسمان میں رہنے والوں پر رکھ دیا جائے تو سب اللہ تَعَالٰی کے اِذن سے مرجائیں کیونکہ میت کے ہر ایک بال میں موت ہوتی ہے اور موت جب کسی چیز پر طاری ہوتی ہے تو وہ چیز فنا ہوجاتی ہے۔(2)
مروی ہے کہ اگر موت کے درد کا ایک قطرہ دنیا کے پہاڑوں پر رکھ دیا جائے تو سب پہاڑ پگھل جائیں ۔
انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام پر موت بہت آسان کردی جاتی ہے:
مروی ہے کہ جب حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا انتقال ہوا تو اللہ تَعَالٰی نے فرمایا: اے میرے خلیل! تم نے موت کو کیسا پایا؟ اُنہوں نے عرض کی:جیسے سیخ کو گیلی اون میں ڈال کر کھینچا جائے، رب تعالیٰ نے فرمایا:’’ ہم نے تمہارے لئے موت کو بہت آسان کردیا ہے۔ ( تو نے تب بھی اس کی یہ شدت محسوس کی ہے)۔
مروی ہے کہ حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامکی روح بارگاہِ رب العزت میں حاضر ہوئی تو ربِ جلیل نے فرمایا: موسی! تم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند احمد ، مسند السیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا، ۹/۴۶۲، الحدیث ۲۵۰۹۶
2…بستان الواعظین وریاض السامعین لابن جوزی، ص۱۳۲و طبقات الشافیۃ الکبری، ۶/۳۸۲ و بریقۃ محمودیۃ فی شرح طریقۃ محمدیۃ ،۱/۲۶۴والتذکرۃ للقرطبی، باب ما جاء ان للموت سکرات۔۔۔الخ، ص۲۵