Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
322 - 676
 باب44
شدائدِ مرگ
	حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے موت اور اس کے دُکھ درد کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ دُکھ درد تلوار سے لگنے والی تین سو چوٹوں کے برابر ہوتا ہے۔(1)
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے موت کی شدت کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ آسان ترین موت اُون میں کانٹے دار ٹہنی کی طرح ہے اسے جب کھینچا جائے گا تو اس کے ساتھ ضرور کچھ نہ کچھ اون بھی کھینچی چلی آئے گی۔(2)
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ایک مریض کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: میں جانتا ہوں کہ وہ کس حال میں ہے اور پسینہ اسے کس لئے آرہا ہے؟ درد واَلم موت کی شدت و حدت کی وجہ سے ہے۔(3)
	حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ لوگوں کو جہاد پر اُبھارتے اور فرماتے کہ اگر تم جہاد میں شمولیت اختیار نہ کرو گے تب بھی مرنا ضرور ہے، بخدا !مجھے تلواروں کے ایک ہزار وار بستر پر مرنے سے زیادہ آسان نظر آتے ہیں ۔ 
	امامِ اوزاعی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے: ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ مردہ قبر سے اٹھنے کے وقت تک موت کی تلخی محسوس کرتا رہے گا۔
بعض شدائد ِ مرگ کی تفصیل:
	حضرتِ شداد بن اوس رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ  کا قول ہے کہ موت مومن کے لئے دنیا اورآخرت کے خوفوں میں سب سے زیادہ حوصلہ شکن خوف ہے، وہ آریوں سے چِر جانے، قینچیوں سے اعضاء کاٹ دیئے جانے اور دیگوں میں اُبلنے سے بھی زیادہ سخت ہے، اگر کوئی مردہ زندہ ہوکر دنیا والوں کو موت کی تلخی کی خبردیدے تو وہ زندگی کے لطف کو بھول جائیں اور کبھی آرام کی نیند نہ سوئیں۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…الزھد لابن مبارک، باب فی طلب الحلال، ص۲۱۹، الحدیث۶۲۰
2…کنزالعمال، کتاب الموت، الفصل الاول ، ۸/۲۳۹ ، الجزء الخامس عشر، الحدیث ۴۲۱۶۷
3…المعجم الکبیر، ۶/۲۶۹ ، الحدیث ۶۱۸۵ ملتقطا