حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا قول ہے کہ ایسی دورکعتیں جو حضورِ قلب اور انتہائی غوروفکر سے پڑھی جائیں ، وہ ساری رات کی بے حضور قلب عبادت سے افضل ہیں ۔
حضرت ابوشریح رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ چلے جارہے تھے کہ اچانک چادر لپیٹ کر بیٹھ گئے اور رونا شروع کردیا، رونے کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں اپنی گزشتہ عمر، قلیل نیکیوں اور موت کے جلد آنے پر غور کر کے رورہا ہوں ۔
ابو سلیمان رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے: آنکھوں کو رونے کا اور دلوں کو غوروفکر کرنے کا عادی بناؤ، مزید فرمایا: دنیا کے بارے میں غوروفکر آخرت کے لئے ایک پردہ ہے اور نیکوں کے لئے عذاب ہے لیکن آخرت کے متعلق غوروفکر علم کا وارث بناتا ہے اور دلوں کو زندہ کرتا ہے۔
حضرتِ حاتم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ عبرت حاصل کرنے سے علم بڑھتا ہے، ذکر سے محبت بڑھتی ہے اور غوروفکر سے خوفِ خدا بڑھتا ہے۔
حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا قول ہے کہ نیکیوں میں غوروفکر نیکیوں کی ترغیب دیتا ہے اور گناہوں پر پشیمانی گناہ چھوڑنے پر آمادہ کرتی ہے۔
روایت ہے، اللہ تَعَالٰی نے اپنی بعض کتابوں میں فرمایا ہے کہ میں ہر عالم و دانشمند کا، کلام نہیں اس کی نیت اور محبت دیکھتا ہوں ، اگر اس کی نیت و محبت میرے لئے ہوتی ہے تو میں اس کی خاموشی کو غوروفکر کی خاموشی، اس کی گفتگو کو حمد قرار دیتا ہوں ، اگرچہ وہ خاموش بیٹھا ہوا ہو۔
حضرتِ حسن رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ عقلمند ہمیشہ ذکر سے فکر کی جانب اور غوروفکر سے ذکرِ خدا کی جانب رُجوع ہوتے ہیں یہاں تک کہ ان کے دل بولتے ہیں اور علم و حکمت کی باتیں کرتے ہیں ۔
اسحٰق بن خلف رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرتِ داؤد طائی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ ایک چاندنی رات میں چھت پر بیٹھے اللہ تَعَالٰی کے عجائباتِ ارض و سما میں غوروفکر کررہے تھے اور وہ آسمان کی طرف دیکھ کر رورہے تھے یہاں تک کہ بے خودی کی حالت میں ہمسایہ کے گھر میں گر پڑے، مکان کا مالک اپنے بستر سے برہنہ تلوار لیکر جھپٹا، وہ سمجھا شاید کوئی چور آگیا ہے لیکن جب اس نے آپ کو دیکھا تو تلوار نیام میں کر کے پوچھا: آپ کو کسی نے چھت سے دَھکادیا ہے؟ آپ نے فرمایا: