حضرتِ حسن رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کہتے ہیں کہ اِس آیت کے معنی یہ ہیں کہ میں اُن کے دلوں میں غوروفکر کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رہنے دوں گا۔
حضرتِ ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اپنی آنکھوں کو عبادت کا حصہ دو، عرض کی گئی: حضور! ان کا عبادت سے کیا حصہ ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: قرآنِ مجید کودیکھنا، اس میں غوروفکر کرنا اور اس کے عجائبات میں سبق حاصل کرنے والی نگاہ سے غور و خوض کرنا۔(1)
مکہ معظمہ کے قریب جنگل میں رہنے والی عورت سے مروی ہے: اس نے کہا: اگر نیکوں کے دل غوروفکر میں ڈوب کر غیب کے پردوں میں پوشیدہ ان انعامات کو دیکھ لیں جن کو اللہ تَعَالٰی نے ان کے لئے تیار کیا ہے تو ان کی دنیاوی زندگی ان پر بھاری ہوجائے اور دنیا ان کی نظروں میں بالکل حقیر ہوجائے۔
حضرتِ لقمان تنہائی میں بیٹھ کر بہت دیر تک غوروفکر میں ڈوبے رہتے ، ان کا خادِم وہاں سے گزرتا اور کہتا کہ آپ ہمیشہ تنہا بیٹھے رہتے ہیں ، اگر لوگوں کے ساتھ بیٹھا کریں تو آپ ان سے الفت حاصل کریں ، آپ جواب میں فرماتے کہ طویل تنہائی دائمی غوروفکر عطا کرتی ہے اور طویل تفکر جنت کا راستہ ہے۔
حضرتِ وہب بن منبہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ جس شخص کا غوروفکر بڑھ جاتا ہے اسے علم عطا ہوتا ہے اور جسے علم عطا ہوتا ہے وہ عمل کرتا ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ اللہ تَعَالٰی کی نعمتوں میں غور وفکر کرنا سب سے افضل عبادت ہے۔
حضرتِ عبداللہ بن مبارک رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے ایک دن سہل بن علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو خاموش اور متفکر دیکھ کر پوچھا: کہاں تک پہنچے ہو؟ وہ بولے کہ پل صراط کے متعلق غور و فکر کررہا ہوں ۔
حضرتِ بشر رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ اگر لوگ اللہ تَعَالٰی کی عظمت میں غوروفکر کریں تو کبھی بھی اللہ تَعَالٰی کی نافرمانی نہ کریں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان ، التاسع عشر من شعب الإیمان، باب فی تعظیم القرآن، ۲/۴۰۸، الحدیث۲۲۲۲