Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
318 - 676
	امامِ اوزاعی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے پوچھا گیا کہ ان آیات میں غوروفکر کرنے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ان آیات کو پڑھو اور پھر انہیں سمجھنے کی کوشش کرو۔
	محمد بن واسع رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے مروی ہے کہ بصرہ کا ایک شخص حضرتِ ابوذَر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی وفات کے بعد ان کی زوجۂ محترمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے حضرتِ ابوذَر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی عبادت کے متعلق پوچھا: ان کی زوجہ نے جواب دیا کہ وہ سارا دن گھر کے کونے میں بیٹھے غوروفکر کیا کرتے تھے۔
	حضرتِ حسن رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ ایک لمحہ کا غوروفکر رات بھر کی عبادت سے بہتر ہے، حضرتِ فضیل کا قول ہے کہ غور و فکر ایک آئینہ ہے جو تجھے تیری نیکیاں اور برائیاں دکھاتا ہے۔
	  حضرتِ ابراہیم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے کہا گیا کہ آپ بہت زیادہ غوروفکر کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ غوروفکر عقل کا مغز ہے۔
	حضرتِ سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ   شاعر کے اس شعر کو اکثر بطورِ تمثیل پیش کیا کرتے تھے:    ؎
اذا المرء کانت لہ فکرۃ		ففی  کل  شی ء   لہ  عبرۃ
٭…جب آدمی میں غور وفکر کرنے کا مادہ ہو تو اسے ہر چیز میں عبرتیں نظر آتی ہیں ۔ 
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا حواریوں کو جواب :
	 حضرتِ طاؤس رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حواریوں نے حضرتِ عیسی عَلَیْہِ السَّلَامسے کہا کہ آج روئے زمین پر آپ جیسا کوئی اور بھی ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کا بولنا ذکرِ الٰہی میں ہو، جس کی خاموشی غوروفکر میں اور جس کی نگاہ، نگاہِ عبرت ہو، وہ مجھ جیسا ہے۔
	حضرتِ حسن رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ  کا قول ہے کہ جس شخص کی گفتگو حکیمانہ نہیں وہ لغو ہے، جس کی خاموشی غوروفکر کی خاموشی نہیں ہے وہ بھول ہے اور جس کی نگاہ نگاہِ عبرت نہیں وہ بیہودہ ہے۔فرمانِ الٰہی ہے:
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیۡنَ یَتَکَبَّرُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ بِغَیۡرِ الْحَقِّ ؕ (1)
البتہ میں اپنی نشانیوں سے زمین پر ناحق تکبر کرنے والوں کو پھیر دوں گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان:اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں ۔(پ۹،الاعراف:۱۴۶)