Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
317 - 676
 ان میں شیطان کا گزر نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا: انہیں شیطان کی پیدائش کا علم ہی نہیں ، پوچھا گیا :وہ آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: انہیں تو آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی پیدائش کا بھی علم نہیں ہے۔(1)
	  حضرتِ عطاء  رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں اور عبید بن عمیر حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا  کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کے اور ہمارے درمیان پردہ پڑا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: عبید! تم ہماری ملاقات کو کیوں نہیں آتے؟ عبید نے کہا: میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے اس فرمان کی وجہ سے دیر سے حاضر ہوتا ہوں کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا ہے:’’زُرْغِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا ‘‘تاخیر سے ملاقات کرو، محبت بڑھے گی۔ابن عمیر بولے: آپ ہمیں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے مشاہدہ کی ہوئی منفرد باتوں سے کوئی منفرد بات بتلائیں ۔ حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا   روپڑیں اور فرمایا: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی ہر بات منفرد تھی۔  
	ایک مرتبہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم رات کو میرے ہاں تشریف لائے اور میرے ساتھ آرام فرما ہوئے، تھوڑی دیر کے بعد فرمایا کہ مجھے اجازت دو تاکہ میں اللہ تَعَالٰی کی عبادت کروں ۔ چنانچہ آپ ایک مشکیزہ کی طرف گئے، وضو فرمایا اور نماز میں کھڑے ہوگئے۔ نماز شروع کرتے ہی آپ نے رونا شروع کیا یہاں تک کہ آپ کی مبارک داڑھی آنسوؤں سے تَر ہوگئی، پھر سجدہ کیا یہاں تک کہ روتے روتے زمین گیلی ہوگئی، سلام کے بعد آپ پہلو کے بل لیٹ گئے تاآنکہ حضرتِ بلال رَضِیَ اللہ عَنْہ نے صبح کی اذان دے دی اور آپ کو نماز کے لئے بلایا اور عرض کی: یارسول اللہ! آپ کس لئے روتے ہیں حالانکہ اللہ تَعَالٰی نے آپ کے سبب آپ کے اگلوں اور پچھلوں کی خطائیں معاف فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا: افسوس! بلال تم مجھے رونے سے روکتے ہو حالانکہ اللہ تَعَالٰی نے آج کی رات مجھ پر یہ آیت نازل فرمائی ہے:
اِنَّ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَاخْتِلٰفِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلْبٰابِ ﴿۱۹۰﴾ۚۙ (2)
بے شک زمین و آسمان کی پیدائش اور رات دن کے اختلاف میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ 
	پھر ارشاد فرمایا: اس شخص پر افسوس ہے! جس نے یہ آیت پڑھی اور اس میں غور و فکر نہیں کیا۔ (3)	
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…العظمۃ لابی الشیخ الاصبہانی،۴/۱۴۴۲
 2…ترجمۂکنزالایمان:بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔ (پ۴،اٰلِ عمران:۱۹۰)
 3…ابن حبان ، کتاب الرقائق ، باب التوبۃ ، ۲/۸، الحدیث ۶۱۹