Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
316 - 676
{1}…بے شک راتیں لوگوں کی منزل ہیں علاوہ ازیں ان کی عمریں لپیٹی اور پھیلائی جارہی ہیں ۔ 
{2}…چھوٹی راتیں غموں کی وجہ سے طویل ہوجاتی ہیں اور طویل راتیں مسرت کی وجہ سے چھوٹی معلوم ہوتی ہیں ۔ 
اولوالالباب کون ہیں :
	اور اللہ تَعَالٰی نے غور و فکر کرنے والوں کی تعریف کی ،چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
اَلَّذِیۡنَ یَذْکُرُوۡنَ اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بٰطِلًا ۚ (1)
یہ وہ لوگ ہیں جو کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور پہلو کے بل لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں (اور کہتے ہیں ) اے ہمارے پرورد گار تونے ان کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔
ذاتِ باری میں غور و فکر کی ممانعت:
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے اللہ تَعَالٰی کی ذات و صفات میں غور و فکر کیاتو حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ مخلوقِ خدا کے احوال میں غوروفکر کرو، اللہ کی ذات میں غوروفکر نہ کرو کیونکہ تم اس کی بے مثال قدرت پر قادر نہیں ہوسکتے۔‘‘(2)
	حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے مروی ہے کہ ایک دن آپ ایک ایسی جماعت کے پاس گئے جو غوروفکر میں ڈوبی ہوئی تھی، آپ نے پوچھا: کیا بات ہے تم بولتے کیوں نہیں ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہم اللہ تَعَالٰی کے بارے میں غور و فکر کررہے ہیں ، آپ نے فرمایا: اچھا! لیکن مخلوقِ خدا میں غوروفکر کرو، خالقِ کائنات کی ذات میں غوروفکر مت کرو، پھر آپ نے فرمایا: مغرب میں ایک سفید براق نورانی زمین ہے، سورج کا وہاں تک چالیس دنوں کا سفر ہے، وہاں اللہ تَعَالٰی نے ایک مخلوق پیدا فرمائی ہے، وہ جب سے پیدا ہوئے ہیں انہوں نے ایک لمحہ بھی اللہ تَعَالٰی کی نافرمانی نہیں کی، لوگوں نے پوچھا: حضور!
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان:جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے ربّ ہمارے تو نے یہ بے کار نہ بنایا۔  (پ۴، اٰلِ عمران:۱۹۱)
2…کنزالعمال،کتاب الاخلاق، باب التفکر، ۲/۴۷، الجزء الثالث، الحدیث ۵۷۰۳ ماخوذاً