Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
315 - 676
باب 43
زندگی کے بارے میں غور و فکر
	اللہ تَعَالٰی نے قرآنِ مجید میں بہت سے مقامات پر انسان کو غور وفکر کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ الآیۃ (1)
بے شک زمین و آسمان کی پیدائش اور رات دن کے اختلاف میں (اہلِ بصیرت کے لئے نشانیاں ہیں )  ۔
	یعنی رات دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں عقلمندوں کے لئے غور و فکر کی دعوت ہے کیونکہ جونہی ایک جاتا ہے، دوسرا آجاتا ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے:
ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً  (2)
اللہ تَعَالٰی وہ ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا کر دیا ہے۔
	حضرتِ عطاء  رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ پہلی آیت میں اِختلاف سے مراد نور وظلمت، کمی اور زیادتی ہے۔
	کسی نے کیا خوب کہا ہے:    ؎
یاراقد   اللیل   مسرورا    باولہ		ان الحوادث قد تطر قن اسحارا
لاتفرحن     بلیل    طاب    اولہ		فرب   اخر   لیل   اجج   النارا
{1}…اے رات کے ابتدائی حصہ میں خوش خوش سونے والے! کبھی صبح کو مصائب بھی نازل ہو جایا کرتے ہیں ۔ 
{2}…رات کے پہلے پہر کی پاکیزگی سے خوش نہ ہو، رات کے بہت سے آخری حصے جہنم کے شعلوں کو بھڑکا دیتے ہیں ۔ 
	دوسرا شاعر کہتا ہے:    ؎
ان   اللیالی   للانام    مناھل		تطوی و تنشر دونھا الاعمار
فقصارھن من الھموم طویلۃ		وطوالھن مع السرور قصار
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان:بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں۔ (پ۴، اٰلِ عمران:۱۹۰)
2…ترجمۂکنزالایمان: اور وہی ہے جس نے رات اور دن کی بدلی رکھی۔(پ۱۹، الفرقان:۶۲)