خلفِ احمر کہتا ہے: ؎
لنا صاحب مولع بالخلاف کثیر الخطاء قلیل الصواب
اشد لجاجا من الخنفسا وازھی اذا ما مشی من غراب
{1}…میرا ایک اختلاف پسند دوست ہے جس کی غلطیاں زیادہ اور اچھائیاں کم ہیں ۔
{2}…وہ گبریلے سے بھی زیادہ ضدی ہے اور کوّے سے بھی زیادہ اکڑ کر چلتا ہے۔
ایک اور شاعر کہتا ہے: ؎
{1}…میں نے متکبر سے کہا: جبکہ اس نے کہا: مجھ جیسے رجوع نہیں کیا کرتے۔
{2}…اے بہت جلد دنیا سے کوچ کرنے والے! تو تواضع کیوں نہیں کرتا!
حضرتِ ذوالنون مصری رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ اسی موضوع پر فرماتے ہیں :
ایھا الشامخ الذی لایرام نحن من طینۃ علیک السلام
انما ھذہ الحیوۃ متاع ومع الموت تستوی الاقدام
{1}…اے موت کو نہ چاہنے والے متکبر تجھ پر سلامتی ہو (1) ہم مٹی سے ہیں ۔
{2}…یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے، موت کے ساتھ ہی پیر برابر ہوجائیں گے۔
مجاہد نے فرمانِ الٰہی:
’’ ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ یَتَمَطّٰی ﴿ؕ۳۳﴾ ‘‘ (2)
کےمعنٰی یہ بیان کئے ہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف اتراتا ہوا گیا۔ واللہ اعلم.
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یہ سلامِ متارکت ہے جو کسی سے کنارہ کشی اختیار کرتے وقت کہتے ہیںجیسا کہ آیت مبارکہ ہے : وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ﴿۶۳﴾۔ ترجمۂ کنزالایمان:اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیںتو کہتے ہیں بس سلام۔(پ۱۹، الفرقان : ۶۳)
2…ترجمۂ کنزالایمان: پھر اپنے گھر کو اکڑتا چلا۔(پ۲۹، القیامۃ:۳۳)