Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
314 - 676
	خلفِ احمر کہتا ہے:   ؎
لنا صاحب مولع بالخلاف		کثیر الخطاء قلیل الصواب
اشد   لجاجا  من   الخنفسا		وازھی اذا ما مشی من غراب
{1}…میرا ایک اختلاف پسند دوست ہے جس کی غلطیاں زیادہ اور اچھائیاں کم ہیں ۔ 
{2}…وہ گبریلے سے بھی زیادہ ضدی ہے اور کوّے سے بھی زیادہ اکڑ کر چلتا ہے۔
	ایک اور شاعر کہتا ہے:   ؎
{1}…میں نے متکبر سے کہا: جبکہ اس نے کہا: مجھ جیسے رجوع نہیں کیا کرتے۔
{2}…اے بہت جلد دنیا سے کوچ کرنے والے! تو تواضع کیوں نہیں کرتا!
	حضرتِ ذوالنون مصری رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ اسی موضوع پر فرماتے ہیں :   
ایھا الشامخ  الذی لایرام		نحن من طینۃ علیک السلام
انما   ھذہ   الحیوۃ    متاع		ومع الموت تستوی الاقدام
{1}…اے موت کو نہ چاہنے والے متکبر تجھ پر سلامتی ہو (1) ہم مٹی سے ہیں ۔ 
{2}…یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے، موت کے ساتھ ہی پیر برابر ہوجائیں گے۔
	مجاہد نے فرمانِ الٰہی:
			’’  ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ یَتَمَطّٰی ﴿ؕ۳۳﴾ ‘‘  (2)
              کےمعنٰی یہ بیان کئے ہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف اتراتا ہوا گیا۔  واللہ اعلم.	
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…یہ سلامِ متارکت ہے جو کسی سے کنارہ کشی اختیار کرتے وقت کہتے ہیںجیسا کہ آیت مبارکہ ہے :  وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ﴿۶۳﴾۔ ترجمۂ کنزالایمان:اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیںتو کہتے ہیں بس سلام۔(پ۱۹، الفرقان : ۶۳)
2…ترجمۂ کنزالایمان: پھر اپنے گھر کو اکڑتا چلا۔(پ۲۹، القیامۃ:۳۳)