Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
313 - 676
 دلوں کی ضرورت ہے۔(1)
	  روایت ہے کہ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہ عَنْہ نے خلافت سنبھالنے سے پہلے حج کیا، حضرتِ طاؤس رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ نے انہیں دیکھا کہ وہ اِترا اِترا کر چل رہے ہیں ۔ طاؤس رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ نے ان کے پہلو کو انگلی سے دبا کرکہا: یہ اس کی چال نہیں ہے جس کے پیٹ میں گندگی بھری ہو۔ جناب عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہ عَنْہ نے معذرت خواہانہ لہجہ میں کہا: اے عمِ محترم! میرے جسم کے ہر عضو نے مجھے اس چال پر مجبور کیا اور میں یہ چال سیکھ گیا۔
	حضرتِ محمد بن واسع رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ نے اپنے بیٹے کو ناز و تبختر سے چلتے ہوئے دیکھ کر بلایا اور کہا: جانتے ہو تم کون ہو؟ تمہاری ماں کو میں نے سو درہم میں خریدا تھا اور تمہارا باپ مخلوقِ خدا میں بہت سے لوگوں سے کم مرتبہ ہے۔
	  حضرتِ عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہمانے ایک آدمی کو تہبند گھسیٹ کر چلتے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ شیطان کے بھی بھائی ہیں ۔ آپ نے دو یا تین مرتبہ یہ جملہ دُھرایا۔
	روایت ہے کہ مطرف بن عبداللہ بن الشخیررَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ نے مہلب کو ریشمی جبہ پہنے ناز سے چلتے دیکھ کر کہا کہ اے بندئہ خدا! یہ چال ان لوگوں کی ہے جنہیں اللہ تَعَالٰی ناپسند کرتا ہے اور جو رسولِ خدا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کے دشمن ہیں ، مہلب نے کہا: مجھے پہچانتے ہو میں کون ہوں ؟ حضرتِ مطرف رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ بولے کہ اچھی طرح پہچانتا ہوں ، تیری ابتدا ناپاک نطفہ سے، تیری انتہاء گندے مردار کے طور پر ہے اور درمیانی مدت میں تو گندگی اٹھائے پھرتا ہے۔ مہلب نے یہ سن کر متکبرانہ چال ترک کردی اور آگے روانہ ہوگیا۔ 
	اسی موضوع پر اکثر شعراء نے بہت سے اشعار کہے ہیں ، ان میں سے چند یہ ہیں :
عجبت من معجب بصورتہ		وکان  بالامس نطفۃ  مذرۃ
وفی  غد  بعد  حسن  ھیئتہ		یصیر فی القبر جیفۃ  قذرۃ
{1}…میں اپنی صورت پر فخر کرنے والے پر حیران ہوں کیونکہ وہ کل تک ایک ناپاک نطفہ تھا۔
{2}…اور اپنی خوبصورتی کے باوجود کل قبر میں ایک بدبودار مردار ہوجائے گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…یعنی اس کی بارگاہ میں عمدہ اور پاکیزہ دل مقبول ہیں۔ علمیہ