Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
312 - 676
	فرمانِ نبوی ہے:
	 جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اوراِترا کر چلتا ہے، وہ اللہ تَعَالٰی سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تَعَالٰی اس پر ناراض ہوگا۔(1)
	حضرتِ ابوبکر    ا    لہذلی رَضِیَ اللہ عَنْہ سے مروی ہے:
	ہم حضرتِ حسن رَضِیَ اللہ عَنْہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ’’ابن الاہتم‘‘ کا گزر ہوا جو اپنے محل کی طرف جارہا تھا۔ اس نے متعدد ریشمی عبائیں ایک دوسرے پر پہن رکھی تھیں ا ور ان کی وجہ سے اس کی اچکن کھلی ہوئی تھی، وہ نہایت متکبرانہ انداز میں ایک ایک قدم رکھتا ہوا جارہا تھا۔ حضرتِ حسن نے ایک نظر اسے دیکھا اور فرمایا: افسوس! افسوس! ناک چڑھانے والا اِترا کر چلنے والا منہ پھلائے ہوئے اپنے دونوں پہلو دیکھتا ہوا جارہا ہے، اے بیوقوف! تو اپنے پہلوؤں میں ایسی نعمتوں کو دیکھ رہا ہے جن کا شکر ادا نہیں کیا گیا جو اللہ تَعَالٰی کے حکم سے بنائی گئیں اور نہ ہی تو نے اللہ تَعَالٰی کے حقوق کو ادا کیا ہے، تیرے بدن کے ہر ایک عضو میں اللہ کی نعمت ہے اور شیطان ہر عضو پر قبضہ کی فکر میں ہے۔ بخدا! اپنی فطرت کے مطابق چلنا یا دیوانے کی طرح لڑکھڑاکر چلنا اس چلنے سے بہتر ہے۔
	ابن الاہتم نے جب یہ سنا تو آکر معذرت کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا: مجھ سے معذرت نہ چاہو، اللہ تَعَالٰی سے توبہ کرو، کیا تو نے یہ فرمانِ الٰہی نہیں سنا ہے:
	 ’’اور زمین پر اترا کر نہ چل بے شک تو نہ تو زمین کو پھاڑے گا اور نہ ہی پہاڑوں جتنا لمبا ہو جائے گا۔‘‘(2)
جوانی پر فخر نہیں کرنا چاہئے:
	حضرتِ حسن رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کے قریب سے ایک جوان کا گزر ہوا جو خوبصورت کپڑے پہنے ہوئے تھا آپ نے اسے بلاکر فرمایا: اے انسان! اپنی جوانی پرفخر کرتا ہے! اپنی عادتوں سے محبت کرتا ہے! گویا کہ قبر نے تیرے وجود کو چھپا لیا ہے اورتو نے اپنے اعمال دیکھ لئے ہیں !تجھ پر حیف صد حیف! جا اور اپنے دل کا علاج کر کیونکہ اللہ تَعَالٰی کو بندوں کے عمدہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند احمد، مسند عبداللہ  بن عمر بن الخطاب ، ۲/۴۶۲، الحدیث ۶۰۰۲
2…ترجمۂ کنزالایمان:اور زمین میں اِتراتا نہ چل بے شک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہر گز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا۔ (پ۱۵، بنی اسرائیل:۳۷)