مزید فرمایا کہ ایک شخص اپنی چادر پر فخر کررہا تھا، اس کا نفس بہت اِترارہا تھا، اللہ تَعَالٰی نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک اسی طرح دھنستا چلا جائے گا۔(1)
فرمانِ نبوی ہے کہ جو’’ تکبر‘‘ سے اپنے کپڑے گھسیٹ کر چلتا ہے اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن اس پر نگاہِ رحمت نہیں فرمائے گا۔(2)
حضرتِ زید بن اسلم سے مروی ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو عبداللہ بن واقد کا گزر ہوا جونئے کپڑے پہنے ہوئے تھا، میں نے سنا حضرتِ عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہما کہہ رہے تھے اے بیٹے! تہبند کو اونچا کرلو کیونکہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اپنے تہبند کو تکبر سے گھسیٹ کر چلتا ہے، اللہ تَعَالٰی اس کی طرف نگاہِ رحمت نہیں کرتا۔(3)
روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے ایک مرتبہ اپنی ہتھیلی پر لعابِ دہن لگا کر فرمایا: اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے: اے انسان! تو عجب و غرور کررہا ہے حالانکہ میں نے تجھے اس جیسے پانی سے پیدا کیا ہے، یہاں تک کہ جب میں نے تجھے مکمل کر دیا تو تو رنگ برنگے کپڑے پہن کر زمین پر دندناتا پھر رہا ہے حالانکہ تجھے اسی زمین میں جانا ہے۔ تو نے مال جمع کر کے اسے روک لیا مگر جب موت تیرے سامنے آ جاتی ہے تو صدقہ کرنے کی اجازت طلب کرتا ہے، اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں ؟(4)
فرمانِ نبوی ہے کہ جب میرا امتی اِتراکر چلے گا اور فارس و روم والے ان کے خدمت گزار ہوں گے تو اللہ تَعَالٰی ان پر دوسروں کو مسلط کردے گا۔(5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم التبختر۔۔۔الخ، ص ۱۱۵۶، الحدیث۴۹۔ (۲۰۸۸)
2…مسلم، کتاب اللباس والزینۃ ، باب تحریم جرالثوب خیلائ۔۔۔الخ، ص ۱۱۵۴، الحدیث۴۳۔ (۲۰۸۵)
3…التواضع والخمول لا بن ابی الدنیا ،۳/۵۷۱، الحدیث۲۳۹ومسند احمد، مسندعبد اللہ بن عمر۔۔۔الخ، ۲/۲۱۹، الحدیث۴۵۶۷ مختصرا
4…مسند احمد، مسند الشامیین، حدیث بسر بن جحاش ، ۶/۲۵۵ ، الحدیث ۱۷۸۵۹
5…صحیح ابن حبان، تابع کتاب التاریخ، باب إخبارہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔الخ ، ذکر الإخبار عن الأمارۃ ۔۔۔الخ، ۶/۲۵۳، الجزء الثامن، الحدیث۶۶۸۱و سنن الترمذی،کتاب الفتن ، ۴/۱۱۵، الحدیث ۲۲۶۸