حضرتِ وہب رَضِیَ اللہ عَنْہ کا قول ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے جنت عدن کو پیدا فرما کرکہا: تو ہر متکبر پر حرام ہے۔
حضرتِ اَحنف بن قیس رَضِیَ اللہ عَنْہ حضرت مصعب بن زبیر رَضِیَ اللہ عَنْہ کے ساتھ چارپائی پر بیٹھا کرتے تھے، ایک دن احنف تشریف لائے تو حضرتِ مصعب پیر لمبے کئے ہوئے دراز تھے، انہیں دیکھ کر انہوں نے پیر نہیں سمیٹے، حضرتِ احنف بیٹھ گئے اور انہیں بہت دکھ ہوا، یہاں تک کہ ان کے چہرے پر ناراضگی کی علامتیں ظاہر ہوگئیں ،تب انہوں نے کہا: تعجب ہے کہ انسان تکبر کرتا ہے حالانکہ وہ دو پیشاب گاہوں سے نکلا ہے۔
حضرتِ حسن رَضِیَ اللہ عَنْہ فرماتے ہیں : تعجب ہے کہ انسان روزانہ ایک یا دو مرتبہ پاخانہ دھوتا ہے اور پھر بھی اللہ تَعَالٰی سے مقابلہ کرتا ہے۔
آیۂ کریمہ
’’ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾‘‘(1)
کے متعلق بعض علماء نے کہا ہے کہ اس سے مراد انسان کی شرم گاہیں ہیں ۔
حضرتِ محمد بن حسین بن علی رَضِیَ اللہ عَنْہم کا قول ہے کہ انسان کے دل میں جتنا تکبر داخل ہوتا ہے اتنا ہی اس کی عقل کم ہوتی ہے، تکبر زیادہ ہوتو عقل بہت کم ہوتی ہے اور اگر تکبر تھوڑا ہو تو اسی کے حساب سے عقل کم ہوجاتی ہے۔
حضرتِ سلیمان رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ سے اس گناہ کے متعلق پوچھا گیا جس کی موجودگی میں نیکی کوئی فائدہ نہیں دیتی تو انہوں نے کہا: وہ تکبر ہے۔
حضرتِ نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ عَنْہ نے منبر پر کھڑے ہوکر فرمایا: شیطان کے کچھ جال ہیں ، ان جالوں میں سے یہ جال بھی ہیں : اللہ کی نعمتوں پر اِترانا، اس کی عطاؤں پر فخر کرنا، بندگانِ خدا سے تکبر کرنا اور اللہ تَعَالٰی کی ناپسندیدہ خواہشات کی اتباع کرنا۔ اے اللہ! اپنی منت اور احسان کے طفیل دنیا اورآخرت میں ہمیں عفو اور عافیت عطا فرما! آمین۔
فرمانِ نبوی ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے تہبند کو گھسیٹتا ہے اللہ تَعَالٰی اسے نگاہِ رحمت سے نہیں دیکھتا ہے۔ (2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:اور خود تم میں (نشانیاں ہیں) تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں ۔ (پ۲۶،الذّٰ ریٰت:۲۱)
2…مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم جر الثوب خیلاء و بیان حد ما یجوز ارخاؤہ الیہ۔۔۔الخ، ص ۱۱۵۶، الحدیث ۴۸۔ (۲۰۸۷)