کتنا تکبر ہے! آپ نے فرمایا: کیا اس کے لئے موت نہیں ہے؟(1)(یعنی وہ موت سے نہیں ڈرتا)
حضرتِ عبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہ عَنْہما سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ حضرتِ نوح عَلَیْہِ السَّلَام نے وفات کے وقت اپنے بیٹوں کو بلا کر فرمایا: میں تمہیں دوباتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہوں اور دوباتوں سے روکتا ہوں ، میں تکبر اور شرک سے منع کرتا ہوں اور ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ پر کاربند رہنے کا حکم دیتا ہوں کیونکہ اگر ایک پلڑے میں آسمان و زمین اپنی تمام اشیاء سمیت رکھ دیئے جائیں اور دوسرے پلڑے میں ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ رکھ دیا جائے تو یہ پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ اگر آسمان و زمین اپنی تمام تر اشیاء سمیت ایک دائرہ کی طرح ہوجائیں اور ان میں ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ رکھ دیا جائے تووہ دائرہ ٹوٹ جائے گا اورمیں تمہیں ’’ سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ ‘‘ پڑھنے کا حکم دیتا ہوں کیونکہ یہ ہر چیز کی تسبیح ہے اور اسی کے سبب ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔ (2)
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: اسے بشارت ہوجسے اللہ نے اپنی کتاب کاعلم دیا اور وہ متکبر نہیں مرا۔
فرمانِ نبوی ہے کہ ہر سنگدل، اِترا کر چلنے والا متکبر، مال جمع کرنے والا اور کسی کو راہِ خدا سے روکنے والا جہنمی ہے اور ہر مفلس ضعیف جنتی ہے۔(3)
فرمانِ نبوی ہے: ہمیں سب سے زیادہ محبوب ہمارا سب سے زیادہ مقرب قیامت میں وہ شخص ہوگا جو تم میں سے بہترین اخلاق کامالک ہے اور قیامت کے دن ہمیں سب سے زیادہ ناپسند اور ہم سے سب سے زیادہ دور، لوگوں کا مضحکہ اڑانے والے، بیہودہ گو اورمنہ بھر بھر کر باتیں کرنے والے ہوں گے پوچھا گیا: حضور! یہ کون ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: متکبر ہوں گے۔(4)
فرمانِ نبوی ہے: قیامت کے دن متکبر چیونٹیوں کی طرح اٹھائے جائیں گے لوگ انہیں روندیں گے اور ریزہ ریزہ کردیں گے اور وہ انتہائی ذلت میں ہوں گے پھر انہیں جہنم کے قید خانہ کی طرف لے جایا جائیگا جس کا نام بَوْلَس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان ، السابع والخمسون۔۔۔الخ، فصل فی التواضع۔۔۔الخ ۶/۲۹۳، الحدیث۸۲۰۹
2…مسنداحمد ، مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص،۲/۶۹۵، الحدیث۷۱۲۳
3…مسنداحمد ، مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص،۲/۶۷۲، الحدیث ۷۰۳۰
4…تاریخ مدینہ دمشق، ۳۷/۳۹۷