تین شخصوں پرجہنم کا مخصوص عذاب:
نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم فرماتے ہیں کہ جہنم سے ایک گردن نکلے گی جس کے دو کان، دو آنکھیں اور قوتِ گویائی رکھنے والی زبان ہوگی، وہ کہے گی کہ مجھے تین شخصوں پر مقرر کیا گیا ہے، ہر سرکش متکبر کے لئے ،اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے کے لئے اور تصویریں بنانے والے کے لئے۔(1)
فرمانِ نبوی ہے کہ بخیل، متکبر اوربدخصال جنت میں نہیں جائے گا۔(2)
فرمانِ نبوی ہے کہ جنت اور جہنم نے باہم گفتگو کی:
جہنم بولا کہ’’ میں نے سرکشوں اور متکبروں کو اپنے لئے پسند کیا ہے۔‘‘
جنت نے کہا: ’’میرے اندر کمزور، ضعیف اور درماندہ لوگ آئیں گے۔‘‘
اللہ تَعَالٰی نے جنت سے فرمایا:’’ تو میری رحمت ہے، میں جس بندے کو چاہوں گا اسے تیرے سپرد کردوں گا۔ اور جہنم سے فرمایا:’’تو میرا عذاب ہے، میں جسے چاہوں گا تیرے عذاب میں جھونک دوں گا اور تم دونوں کو بھردوں گا۔(3)
بہت ہی بُرا بندہ:
نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم فرماتے ہیں کہ وہ بندہ بہت بُرا ہے جس نے تکبر کیا، سرکشی اختیار کی اور قادرِ مطلق خدا کو بھول گیا، وہ بندہ بہت برا ہے جس نے تکبر کیا، اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھا اور بہت بڑے بلند و باعزت خدا کو بھول گیا۔ وہ بندہ بہت بُرا ہے جو مقصودِ زندگی سے غافل ہوگیا، اسے بھول گیا اور قبروں اور مصائب کو بھُلا بیٹھا، وہ بندہ بہت بُرا ہے جس نے بغاوت اور سرکشی کی اور اپنی ابتداء اور انتہاء کو بھول گیا۔(4)
حضرتِ ثابت رَضِیَ اللہ عَنْہ سے مروی ہے: ہمیں معلوم ہوا ہے، حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم سے کہا گیا کہ فلاں میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی ، کتاب صفۃ جہنم، باب ماجاء فی صفۃ النار، ۴/۲۵۹، الحدیث۲۵۸۳
2…مسند احمد، مسند ابی بکر الصدیق، ا/۲۶، الحدیث۳۲ ملخصاً
3… بخاری ،کتا ب التفسیر، باب و تقول ھل من مزید، ۳/۳۳۳، الحدیث ۴۸۵۰
4…ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ۱۷،۴/۲۰۳،الحدیث۲۴۵۶