اور بھی متعدد مقامات پر اللہ تَعَالٰی نے تکبر کی مذمت فرمائی ہے۔
اور فرمانِ نبوی ہے: ’’جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہوگا وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔(1)
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عَنْہ سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے فرمایا: اللہ فرماتا ہے کہ عظمت اور کبریائی میری چادریں ہیں جو ان میں سے کسی کا دعویٰ کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا، (2)مجھے کسی کی پروا نہیں ہے۔
حضرتِ ابو سلمہ بن عبدالرحمن رَضِیَ اللہ عَنْہ سے مروی ہے: حضرتِ عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہما اور حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ عَنْہما کی کوہِ صفا پر ملاقات ہوئی، کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ عَنْہما چلے گئے اور حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہما رونے لگے، لوگوں نے رونے کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا: حضرتِ عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ عَنْہما کا کہنا ہے، انہوں نے حضرتِ رسولِ اکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا ہے:’’جس شخص کے دل میں رائی کے برابر تکبر ہوگا اللہ تَعَالٰی اسے منہ کے بل جہنم میں ڈالے گا۔‘‘(3)
فرمانِ نبوی ہے کہ آدمی اپنے نفس کی پیروی میں برابر بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اسے متکبرین میں لکھا جاتا ہے اور اسے انہیں کے عذاب میں مبتلا کیا جائیگا۔(4)
حضرتِ سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے ایک مرتبہ پرندوں ، انسانوں ، جنوں اور درندوں سے فرمایا کہ میری معیت میں چلو چنانچہ آپ دولاکھ انسانوں اور دولاکھ جنوں کے ساتھ تخت پر جلوہ فرما ہوئے اور اتنی بلندی تک جاپہنچے کہ وہاں سے فرشتوں کی تسبیحات کی آواز بآسانی سنی جارہی تھی، پھر وہاں سے نیچے اترے یہاں تک کہ ان کے قدم سمندر کو چھونے لگے تو آپ نے آواز سنی، اگر تمہارے کسی ساتھی کے دل میں ذرّہ برابر تکبر ہوگا تو جتنی بلندی تک میں تم کو لے گیا ہوں ، اس سے بھی زیادہ گہرائی میں اسے دھنسا دوں گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ، ص۶۱،الحدیث ۱۴۸۔ (۹۱)
2…ابوداود، کتاب اللباس، باب ماجاء فی الکبر، ۴/۸۱، الحدیث ۴۰۹۰
3…شعب الایمان، السابع والخمسون۔۔۔الخ، فصل فی التواضع۔۔۔الخ، ۶/۲۸۱، الحدیث ، ۸۱۵۴ (المروہ مکان الصفا)
4…ترمذی ، کتاب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی الکبر، ۳/۴۰۳، الحدیث ۲۰۰۷