جواب میں اللہ کا شکر کریں اور جواب دینے والے اور پوچھنے والے دونوں کا شمار شکر گزاروں میں ہوجائے، ان کی اس بات میں ریا کا قطعی دخل نہیں ہوتا تھا۔جس شخص سے بھی اس کی حالت پوچھی جائے وہ تین باتوں میں سے ایک بات کرے گا، شکر ادا کرے گا،شکایت کرے گا یا پھر خاموش رہے گا، اللہ کا شکر ادا کرنا عبادت ہے، شکایت کرنا گناہ ہے جو دین داروں کے نزدیک سخت ناپسندیدہ فعل ہے، اللہ تَعَالٰی کے یہاں اس کی برائی کا کہنا ہی کیا جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے جس کے دستِ قدرت میں بندئہ ناچیز کی تمام چیزیں ہیں لہٰذا انسان کے لئے ضروری ہے اگر وہ مصائب پر صبر نہیں کرسکتا، قضائے الٰہی پر راضی نہیں رہ سکتا اور لامحالہ اپنی تہی دامنی کا شکوہ کرنا چاہتا ہے تو وہ لوگوں کے آگے شکایتیں کرنے کے بجائے اللہ رب العزت کے حضور اپنی گزارشات پیش کرے وہی مصائب میں مبتلا کرنے والا اور وہی ان سے نجات دینے والا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ بندئہ ناچیز کا اللہ کی بارگاہ میں اپنی ذلت کا اظہار کرنا حقیقی عزت ہے مگر اپنے جیسے بندوں کے آگے شکوے کرنا اور ذلت اٹھانا انتہائی رسوا کن چیز ہے۔
فرمانِ الٰہی ہے: ’’تحقیق تم اللہ کے سوا جن کو (معبود سمجھ کر) پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے اللہ کے بندے ہیں ۔ ‘‘(1)
نیز فرمایا: ’’تحقیق تم اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو وہ تمہارے رزق کے مالک نہیں ہیں اللہ کے یہاں رزق تلاش کرو اور اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔‘‘(2)
شکر کی اقسام میں سے زبان سے شکر ادا کرنا بھی ہے چنانچہ مروی ہے کہ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہ عَنْہ کی خدمت میں ایک وفد آیا توان میں سے ایک جوان کھڑا ہو کر آپ سے گفتگو کرنے کی تیاری کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا: بڑوں کی عزت کرو یعنی بڑوں کو مجھ سے گفتگو کرنے دو۔ اس پر وہ جوان بولا: اے امیر المؤمنین! اگر قیادت کا معیار عمر ہوتا تو مسلمانوں میں ایسے بوڑھوں کی کثیر تعداد موجود ہے جو آپ سے عمر میں بڑے ہیں ۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا: چلو بات کرو! اس نے کہا: ہم کچھ لینے نہیں آئے کیونکہ آپ کی مہربانیوں سے ہمیں بہت کچھ مل چکا ہے، کسی سے خوفزدہ ہوکر نہیں آئے کیونکہ آپ کے عدل و انصاف نے ہمارے تمام خوف دور کر کے امن کی زندگی بخشی ہے، ہم صرف اس لئے آئے ہیں کہ اپنی زبانوں سے آپ کا شکریہ ادا کریں اور واپس چلے جائیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:بے شک وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری طرح بندے ہیں۔(پ۹،الاعراف:۱۹۴)
2…ترجمۂ کنزالایمان:بے شک وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں، تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو اور اس کی بندگی کرو اور اس کا احسان مانو۔(پ۲۰،العنکبوت:۱۷)